کوئی بات کرو

کوئی بات کرو
کوئی سونے جیسی بات کرو
مرے پاگل پاگل اس دل کو
کسی سچّے حرف کی دھڑکن دو
یہ جو تیری جھوٹ بھری آنکھیں
مری آنکھوں میں
پانی سے لدے ہوئے بادل گھیر کے لاتی ہیں
اِ ن جھوٹ بھری آنکھوں سے کہو
مِری آنکھوں کو
شبنم سے دھُلے، خوشبو سے لدے
کسی خوابِ گداز کا موسم دیں
ترے خاص گلابی ہونٹوں پر
یہ جو مکر بھرے اک لمس کی لَو لہراتی ہے
اس لمس کی لَو سے اُدھر تُم نے
وہ جو بات چھپا کر رکھی ہے
وہی بات کرو
مرے رختِ سفر کے لیے جاناں
مری جیت نہیں مری مات کو میرے ساتھ کرو
کوئی انہونی سی بات کرو
ایوب خاور 

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے