Koi Awaz Dhondhti Hai Mujhy

ہاتھ بڑھتا ہے فون کی جانب

اور میں اس کو روک لیتا ہوں

کوئی زنجیر کھل نہیں پاتی

دل کسی کام میں نہیں لگتا

کوئی آواز ڈھونڈتی ہے مجھے

پھر وہی تیز دھار نوک سعود

قاش در قاش مجھ میں پھرتی ہے

پھر وہی چھن کی آشنا آواز

بوند تپتے توے پہ گرتی ہے

کوئی لکڑی سی جیسے چِرتی ہے

رنج کے بے امان آرے پر

عمر کے آخری کنارے پر

زندگی کیسے روگ پالتی ہے

برف پر آگ دھرتی جاتی ہے

سانس میں ریت بھرتی جاتی ہے

کوئی آواز ڈھونڈتی ہے مجھے

کسی ملبے سے زندہ حالت میں

یاد آ کر مجھے نکالتی ہے

لوگ کہتے تھے زیر آب کبھی

کوئی آواز بھی نہیں آتی

دل کے گہرے سمندروں کے تلے

پھر یہ آواز کیسے گونجتی ہے

جو کہیں باز بھی نہیں آتی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے