کوئی اپنا تلاش کرتا ہوں

کوئی اپنا تلاش کرتا ہوں
تیرے جیسا تلاش کرتا ہوں
چُھو کے گزرا جو نقشِ پا تیرے
میں وہ جھونکا تلاش کرتا ہوں
چاند تاروں میں اور سورج میں
اپنا سایہ تلاش کرتا ہوں
جانتا ہوں کوئی نہیں منزل
یوں ہی رستہ تلاش کرتا ہوں
ڈوب کر میں ترے سمندر میں
ایک صحرا تلاش کرتا ہوں
توڑ کر شاذ آئینہ اکثر
اپنا چہرہ تلاش کرتا ہوں
شجاع شاذ

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے