کوئی اگر مر جائے تو

کوئی اگر مر جائے تو
کڑی دھوپ میں چلتے چلتی، سایہ،اَگر مل جائے ۔۔۔تو!
اک قطرے کو ترستے ترستی، پیاس، اگر بجھ جائے ۔۔۔تو!
برسوں سے ،خواہش کے جزیرے ویراں ویراں اُجڑے ہوں
اور سپنوں کے ڈھیر سجا کر، کوئی اگر رکھ جائے ۔۔۔تو!
بادل ،شکل بنائیں جب، نیل آکاش پہ رنگوں کے
اُن رنگوں میں اس کا چہرہ، آ کے اگر رُک جائے ۔۔۔۔تو!
خاموشی ہی خاموشی ہو، دل کی گہری پاتالوں میں
کچھ نہیں کہتے کہتے گر، کوئی سب کہہ جائے ۔۔۔تو!
زندہ رہنا سیکھ لیا ہو، سارے دکھوں سے ہار کے جب
بیتے سپنے ، پا کے خوشی سے ،کوئی اگر ۔۔۔مر جائے ،تو۔۔۔!!!
فرزانہ نیناں

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے