کیوں الجھنے لگی ہوا مجھ سے

کیوں الجھنے لگی ہوا مجھ سے
جل اٹھا ہے اگر دیا مجھ سے
اس کو کہتے ہیں لازم و ملزوم
میں خدا سے ہوں اور خدا مجھ سے
آنکھ حیرت سے بھر گئی لیکن
ایک مصرع نہیں ہوا مجھ سے
عکسِ آئندہ ہوں میں زندہ ہوں
حظ اٹھاتا ہے آئینہ مجھ سے
ایک مدت پھرا میں خوار و زبوں
تو مرا رابطہ ہوا مجھ سے
میں تری ذات کی گواہی ہوں
تیرا پردہ ہی یار کیا مجھ سے
قتل کردوں گا ساری دنیا کو
جس کا آغاز ہو چکا مجھ سے
اور بھڑکوں گا میں بجھانے سے
یوں بھی جلتی ہے یہ ہوا مجھ سے
اب بکھرتی نہیں مری دنیا
اب الجھتے نہیں خدا مجھ سے
دو ہی رخ ہیں حدِ تحیر کے
ایک تجھ سے ہے دوسرا مجھ سے
کیوں نکلتی نہیں نئی صورت
کیوں بدلتی نہیں فضا مجھ سے
ایک مدت سے منتظر ہوں زیبؔ
کوئی تو حال پوچھتا مجھ سے
اورنگ زیبؔ

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے