کیا یا کام انہیں پرسشِ اربابِ وفا سے

کیا یا کام انہیں پرسشِ اربابِ وفا سے

مرتا ہے تو مر جائے کوئی ان کی بلا سے

مجھ سے بھی خفا ہو ، میری آہوں سے بھی برہم

تم بھی عجب چیز ہو، کہ لڑتے ہو ہوا سے

دامن کو بچاتا ہے وہ کافر کہ مبادا

چھو جائے کہیں پاکی خون شہدا سے

دیوانہ کیا ساقی محفل نے سبھی کو

کوئی نہ بچا اس نظر ہوش ربا سے

اک یہ بھی حقیقت میں ہے شان کرم ان کی

ظاہر میں وہ رہتے ہیں جو ہر وقت خفا سے

آگاہ غم عشق نہیں ، وہ شہ خوباں

اور یہ بھی جو ہو جائے فقیروں کی دعا سے

قائل ہوئے رندان خرابات کے حسرتؔ

جب کچھ نہ ملا ہم کو گروہ عرفا سے

حسرت موہانی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے