کتابِ زندگی کو کون دیکھے

کتابِ زندگی کو کون دیکھے
مسلسل بےبسی کو کون دیکھے

ہتھیلی پر کسی کا نام ہو تو
کسی بھی اجنبی کو کون دیکھے

حیاتِ جاوداں پانے کی خاطر
عزابِ عاشقی کو کون دیکھے

زمانے کی نگاہوں میں نمایاں
ہمیشہ بےرخی کو کون دیکھے

سفر درپیش ہو صحراؤں کا تو
مسلسل تشنگی کو کون دیکھے

فسردہ شام ہو جاڑے سے لپٹی
تو آنکھوں میں نمی کو کون دیکھے

کسی کی یاد میں ڈوبی نہ ہو تو
پرانی ڈائری کو کون دیکھے

اب اخباروں میں ہیں رنگین خبریں
حروفِ رنجگی کو کون دیکھے

اندھیرے کی گزارش پر منزّہ
ذرا سی روشنی کو کون دیکھے
منزّہ سیّد

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے