Kismat Ky Kab Jaghay

قسمت کے کب جاگے درباں

توڑ چکا جب میں درِ زنداں

اُن کے رخ پر گیسوئے پیچاں

لاکھوں کافر ایک مسلماں

ذکر ہماری کشتی کا ہے

ساحل ساحل طوفاں طوفاں

سوچو تو انسان میں کیا ہے !

ٹھیس لگے مر جائے انساں

دونوں کو بجلی نے پھونکا

میرا گھر گلہائے گلستاں

اہلِ قفس کی خیر ہو یارب

بیٹھا ہے صیاد پریشاں

کیا ہے گلشن پھول نہیں جب!

پھول بنا دیتے ہیں گلستاں

قمر جلال آبادی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے