کسی شام چپکے سے در آئے گا

کسی شام چپکے سے در آئے گا
جو بھولا ہوا ہے وہ گھر آئے گا

زمیں پر کہیں بھی چلا جائے وہ
زمیں گول ہے، گھوم کر آئے گا

جو ہم نے کہا تھا، نظر آگیا
جو ہم کہہ رہے ہیں، نظر آئے گا

اکیلا نہ جا، رات کا وقت ہے
تجھے گُھپ اندھیرے میں ڈر آئے گا

گزارو گے جس کے لئے مدّتیں
وہ لمحہ بہت مختصر آئے گا

کرو خدمتِ صاحبانِ ہنر
ہنر سیکھنے سے ہنر آئے گا

ترا قول تھا عمر بھر کے لئے
مجھے یاد تُو عمر بھر آئے گا

محبت میں پڑتی نہیں جھریاں
میں پہچان لوں گا اگر آئے گا

شعورؔ اس طرح جا رہا ہے وہاں
نہ آیا مجاہد تو سر آئے گا

انور شعورؔ

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے