کسی سے وعدہ و پیمان بھی نہیں میرا

کسی سے وعدہ و پیمان بھی نہیں میرا
یہاں سے لوٹنا آسان بھی نہیں میرا
میں لخت لخت ہوا آسماں سے لڑتے ہوئے
مگر یہ خاک پہ احسان بھی نہیں میرا
میں صرف اپنی حراست میں دن گزارتا ہوں
مرے سوا کوئی زندان بھی نہیں میرا
سکوت شب میں تری چشم نیم وا کے سوا
کوئی چراغ نگہبان بھی نہیں میرا
دھری ہوئی کوئی امید بھی نہیں مرے پاس
کھلا ہوا در امکان بھی نہیں میرا
یہ کس کے بوجھ نے مجھ کو تھکا دیا کہ یہاں
بجز دعا کوئی سامان بھی نہیں میرا
میں اس کی روح میں اترا ہوا ہوں اور شہزادؔ
کمال یہ ہے اسے دھیان بھی نہیں میرا
قمر رضا شہزاد

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے