کسی مجبور کی آنکھوں کے اندر دیکھ لیتا ہوں

کسی مجبور کی آنکھوں کے اندر دیکھ لیتا ہوں
میں آنکھیں بند کر کے بھی سمندر دیکھ لیتا ہوں

مجھے جب شاہ کے دربار میں جانے کی خواہش ہو
پھٹی پوشاک میں پھرتا قلندر دیکھ لیتا ہوں

مرے دشمن نے دونوں ہاتھ جو پیچھے چُھپائے ہیں
مگر میں پھر بھی اُس کے پاس خنجر دیکھ لیتا ہوں

میرا وجدان لگتا ہے کہ میرے ساتھ چلتا ہے
میں اپنا سایہ جب قد کے برابر دیکھ لیتا ہوں

میں جب گھر کی سہولت سے یوں ہی بے زار ہو جاؤں
تو جا کے اپنے ہمسائے کا چھپر دیکھ لیتا ہوں

مجھے لگتا ہے مٹی میں کسی نے زہر ڈالا ہے
میں جب اِس گاؤں کی دھرتی کو بنجر دیکھ لیتا ہوں

در و دیوار کی وحشت پریشاں جب کرے صابرؔ
میں اپنے کمرے کی کھڑکی سے باہر دیکھ لیتا ہوں

ایوب صابر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے