کسی کی یاد آنے پر مجھے تم کیوں بلاتے ہو

کسی کی یاد آنے پر مجھے تم کیوں بلاتے ہو
اُسے تُم دھیان میں رکھ کر مری صورت بناتے ہو
میری تعریف کر کے تم سمجھتے ہو کہ میں خوش ہوں
مگر درپردہ اُس بُت کی محبت کو نبھاتے ہو
مجھے تو دیتے ہو دھوکہ مگر خود سے ذرا پوچھو
کہ اپنے آپ سے بھی جھوٹ اکثر بول جاتے ہو
رہائی مِل نہیں سکتی تمہیں اپنی اسیری سے
کہ روزن سے لگے رہتے ہو دَر کو بھول جاتے ہو
ترے قدموں میں تیرے خوف کے موہوم دھاگے ہیں
مگر تم اِن سے ڈرتے ہو انھی سے خوف کھاتے ہو
مجھے کہہ کر بلاتے ہو کہ موسم آج اچھا ہے
میں آ جاؤں تو کمرا بند کر کے بیٹھ جاتے ہو
مجھے کہتے ہو اپنی رائے سے تم کو کروں آگاہ
مگر جب فیصلے کرتے ہو ، رائے بھول جاتے ہو

شازیہ اکبر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے