کسی کی یاد میں آنکھوں کو لال کیا کرنا

کسی کی یاد میں آنکھوں کو لال کیا کرنا
جسے بچھڑنا تھا اس کا ملال کیا کرنا
ہمیں تو اس کی جدائی عزیز رکھنی ہے
یہ جاہ و حشمت و مال و منال کیا کرنا
محبتیں تو فقط انتہائیں مانگتی ہیں
محبتوں میں بھلا اعتدال کیا کرنا
یہ کار عشق تو بچوں کا کھیل ٹھہرا ہے
سو کار عشق میں کوئی کمال کیا کرنا
وہ رابطے جو کیے خود ہی کالعدم ہم نے
نئے سرے سے پھر ان کو بحال کیا کرنا
حسن عباس رضا

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے