کسی کی بات کے زیرِ اثر نہیں آیا

کسی کی بات کے زیرِ اثر نہیں آیا
خفا ہے مجھ سے تبھی میرے گھر نہیں آیا
رکا ہوا ہے نگاہوں میں شام کا منظر
وہ صبح کا بھُولا ہوا لَوٹ کر نہیں آیا
مرا شُمار ہے اُس کارواں میں جس کے لئے
کسی طرف سے بھی اذنِ سَفَر نہیں آیا
کچھ ایسی دھند تھی دونوں کے درمیاں حائل
میں اس کو اور وہ مجھ کو نَظَر نہیں آیا
تمام عمر کٹی زیست کی مسافت میں
ستم ظریفیءِ قسمت کہ گھر نہیں آیا
ہماری بات ہواؤں کے دوش پر پہنچی
ہمارے بیچ کوئی نامہ بَر نہیں آیا
منزّہ سیّد

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے