کسی کے دل سے یا پھر دیدۂ تر سے نکلنا تھا

کسی کے دل سے یا پھر دیدۂ تر سے نکلنا تھا
میں گریہ کی طرح تھا مجھ کو اندر سے نکلنا تھا

تلاشِ یار سے شکوہ نہ صحرا سے شکایت ہے

مری قسمت میں تھا مجھ کو بھرے گھر سے نکلنا تھا

جسے کمزور سمجھے ہو جسے تم کاٹ آئے ہو

مری اونچی اڑانوں کو اسی پَر سے نکلنا تھا

بہت عرصہ لگا دل کو مری آنکھوں تک آنے میں

محبت کی طرح اس کو بھی پتھر سے نکلنا تھا

مجھے اس آگ کے دریا میں تھوڑی دیر رہنا تھا

مجھے اس آنکھ کے نیلے سمندر سے نکلنا تھا

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے