کسی کا خواب کسی کا قیاس ہے دنیا

کسی کا خواب کسی کا قیاس ہے دنیا
مرے عزیز یہاں کس کے پاس ہے دنیا
یہ خون اور پسینے کی بو نہیں جاتی
نہ جانے کس کے بدن کا لباس ہے دنیا
ہمارے حلق سے اک گھونٹ بھی نہیں اتری
بس ایک اور ہی دنیا کی پیاس ہے دنیا
مرے قلم کی سیاہی کا ایک قطرہ ہے
مری کتاب سے اک اقتباس ہے دنیا
ذوالفقار عادل

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے