کسی عشق و رزق کے جال میں نہیں آئے گا

کسی عشق و رزق کے جال میں نہیں آئے گا
یہ فقیر اب تری چال میں نہیں آئے گا
میں منا تو لوں گا اسے مگر وہ انا پرست
مری سمت اب کسی حال میں نہیں آئے گا
میں کہوں گا حرف طلب کچھ ایسے کمال سے
مرا درد میرے سوال میں نہیں آئے گا
کبھی اپنی ایک جھلک مجھے بھی نواز دے
کوئی فرق تیرے جمال میں نہیں آئے گا
یہی محنتوں کا صلہ رہا تو پھر اے خدا
مجھے لطف رزق حلال نہیں آئے گا
قمر رضا شہزاد

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے