کسی دوپہر میں تری گھڑی

کسی دوپہر میں تری گھڑی بھی رکے تو تجھ کو پتہ چلے
کوئی دن ترا کبھی عمر بھر نہ ڈھلے تو تجھ کو پتہ چلے
وہ جو دوست اچھے دنوں میں بھی کبھی کام آیا نہ ہو ترے
وہ چراغ شام کے بعد بھی نہ جلے تو تجھ کو پتہ چلے
تو جو کہہ رہی ہے کہ سہل ہے سفرِ بلندیء عشق بھی
ترا ہاتھ اگر مرے ہاتھ میں نہ رہے تو تجھ کو پتہ چلے
کسی دور جاتے کو دیکھنے میں جو بے بسی ہے جو کرب ہے
ترے ہاتھ میں جو پتنگ ہے یہ کٹے تو تجھ کو پتہ چلے
میں کہاں تھا کیوں نہیں مل سکا ترے ہر گلے کے جواب میں
میں بتا رہا ہوں میں لاش ہوں تو سنے تو تجھ کو پتہ چلے
میں ادائے مدحتِ تیرہ شب جو نہیں ہوا ہوں تو اس لیے
کہ میں وقفِ بادہ و جام ہوں تو پیے تو تجھ کو پتہ چلے
میں نکل رہا تھا جمود سے کوئی کہہ رہا تھا کہ سرفراز
کوئی راستہ ترا راستہ نہ بنے تو تجھ کو پتہ چلے
سرفراز آرش

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے