کسی چراغ کو چھوتی ہوئی ہوا جیسے

کسی چراغ کو چھوتی ہوئی ہوا جیسے
کوئی قریب سے ہو کر گزر گیا جیسے
گلے لگایا تھا اُس نے کہ سب بدلنے لگا
ہمارے دل میں اتر آیا ہو خدا جیسے
وہ میری بکھری ہوئی زندگی میں یوں آیا
گھنے فریب کے جنگل میں راستہ جیسے
ہے اُس کی آنکھ میں جلتے ہوئے بہشت کی آگ
ہر ایک حرف ہے جس کا کوئی دعا جیسے
اُس ایک شخص کو ملتا رہے سبھی کا پیار
بس ایک سمت میں چلتی رہے ہوا جیسے
تجدید قیصر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے