کسی چشم ہنر کی پاسبانی میں نہیں رہنا

کسی چشم ہنر کی پاسبانی میں نہیں رہنا
ستارے کو زیادہ دیر پانی میں نہیں رہنا
یہ مٹی کیوں مرے قدموں سے لپٹی ہے کہ جب میں نے
ہمیشہ کے لیے دنیائے فانی میں نہیں رہنا
کہیں اس داستاں میں ایک ایسا موڑ آئے گا
جہاں کردار نے اپنی کہانی میں نہیں رہنا
تجھے ہم راہ تو رکھ لوں گا میں لیکن دل سادہ
تری بابت زیادہ خوش گمانی میں نہیں رہنا
مجھے اک ایسی دنیا بھی بسانی ہے جہاں شہزادؔ
کسی کو بھی کسی کی حکمرانی میں نہیں رہنا
قمر رضا شہزاد

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے