کسی بجھتے دیے سے بھی نہ جلی

کسی بجھتے دیے سے بھی نہ جلی
ہائے ! وہ آگ جو کبھی نہ جلی

آبدیدہ ہوں میرا ہنسنا کیا
گیلی ماچس جلی جلی نہ جلی

اس اندھیرے کا کرب ہوں جس میں
کوئی بتی کبھی بجھی نہ جلی

میں نے سورج کو اس کا نام دیا
اور میری زبان بھی نہ جلی

بانسری ہو بھلے ہوں تیر و کماں
کوئی لکڑی خوشی خوشی نہ جلی

تین شمعیں تھیں طاق ہستی میں
میری ان میں سے آخری نہ جلی

ڈھل گیا جسم، دل جواں ہی رہا
جل گیا شہر اک گلی نہ جلی

نوکری میں بھی شاعری ہی کی
پر جلا کر بھی یہ پری نہ جلی

میرے ہاتھوں میں پھول تھے آرش
لیکن اس پر بھی وہ کلی نہ جلی

سرفراز آرش

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے