کسی بھی سنگِ ملامت سے جی نہیں بھرتا

کسی بھی سنگِ ملامت سے جی نہیں بھرتا
جنونِ دل ترا وحشت سے جی نہیں بھرتا
اِدھر جَبیں پہ سنبھلتے نہیں مرے سجدے
اُدھر خدا کا عبادت سے جی نہیں بھرتا
کسی کو حرصِ ستائش کسی کو حرصِ کرم
یہاں کسی کا ضرورت سے جی نہیں بھرتا
یہ دل بھی کیا ہے کہ اس بے قرار وحشی کا
کسی طرح کی ریاضت سے جی نہیں بھرتا
بلا رہی ہیں مگر کب سے منزلیں مجھ کو
وہ ہم سفر ہے مسافت سے جی نہیں بھرتا
وہ محوِ شوق ہے کب سے مگر مرے اندر
عجب خلا ہے محبت سے جی نہیں بھرتا
کوئی نشہ ہے کہ احساس پر مسلط ہے
تری ادا ، تری صورت سے جی نہیں بھرتا
سعید خان 

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے