کس کو یہاں تھا شوق کہ ہم خاک چھانتے

کس کو یہاں تھا شوق کہ ہم خاک چھانتے
لائی ہے آسمان سے تقدیر کھینچ کر
پائل بنا کے پیر میں جس کو پہن لیا
لائی گئی تھی قید سے زنجیر کھیچ کر
قوسِ قزح کی آنکھ سے جلوےکشید کے
دیوار پہ لگائی ہے تصویر کھینچ کر
کچھ ممکنات ہوکے بھی ممکن نہ ہوسکا
خوابوں نےآنکھ چھین لی تعبیر کھینچ کر
سورج مری جبین کا روشن چراغ تھا
پھیلا ہے آسمان پہ تنویر کھینچ کر
میرے لہو کا رنگ ہے خوشبو بدن کی ہے
یعنی چمن کھلا مری جاگیر کھینچ کر
ثمینہ گُل

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے