کس چمن سے چلی ہے پروائی

کس چمن سے چلی ہے پروائی
سانس لیتے ہی آنکھ بھر آئی
ایک پیاسے کے نام سے منسوب
مشک، دریا، ترائی، سقّائی
تاب ہو تو دکھائی دیتا ہے
نوکِ نیزہ پہ حسنِ یکتائی
تب جو مقتل تھا اب وہ جنّت ہے
“اس کو کہتے ہیں عالم آرائی”
کیا اسے خوفِ یُورشِ لشکر
جس کو گھیرے ہوئے ہو تنہائی
عارف امام

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے