کرنوں کے قدم

کرنوں کے قدم
خوش پوش مسافروں کے آگے
ننّھا سا وہ کم لباس بچہ
کِس شانِ انا سے چل رہا تھا
سُورج کی تمازت کے با وصف
سائے کی تلاش تھی نہ اس کو
درکار تھیں نقرئی پناہیں
جیبوں پہ نگاہ تھی نہ رُخ پر
سکّوں سے وہ بے نیاز آنکھیں
کُچھ اور ہی ڈھونڈنے چلی تھیں
اُس کو تو مسافروں سے بڑھ کر
سایوں سے لگاؤں ہو گیا تھا
اپنے نئے کھیل میں مگن وہ
لوگوں کے بہت قریب جا کر
میلی ، بے رنگ اُنگلیوں سے
سایوں کو مزے سے گن رہا تھا
دلدل سے اُگا ہُوا وہ بچہ
خوشبو کا حساب کر رہا تھا
کُہرے میں پلا ہُوا وہ کیڑا
کرنوں کا شمار کر رہا تھا
کس نے اُسے گنتیاں سکھائیں
جس نے کبھی زندگی میں اپنی
اسکول کی شکل تک نہ دیکھی
اُستاد کا نام تک نہ جانا
سچ یہ ہے کہ سورجوں کو چاہے
بادل کا کفن بھی دے کے رکھیں
کب روشنیاں ہوئی ہیں زنجیر!
تنویر کا ہاتھ کِس نے تھاما!
کونوں کے قدم کہاں رُکے ہیں !
پروین شاکر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے