کنارِ بازگشت

کنارِ بازگشت

کسی پیرِ دانا نے کہا تھا بہت سی ناگوار آوازیں

تمہارے دھیان کو بھٹکائے گئیں

مگر تم پیچھے مڑ کے مت دیکھنا ورنہ پتھر کے ہوجاءو گے

سو اے پیرِ دانا!

میں نہیں دیکھتی پیچھے مڑ کے

جب آوازیں میرے دل کو ہدف بناتی ہیں

میں جانتی ہوں

یہ آوازیں مجھے تنگ کرنے کے لئے ہیں

یہ مجھے روکنا چاہتی ہیں آگے بڑھنے سے

دنیا کے ہربڑے مقصد کے آڑے آتی ہیں

یہ آوازیں ۔۔۔

یہ کانٹوں بھری آوازیں

جو لہولہا ن کردیتی ہیں خلوص بھرے دل کو

جیسے کھولتا ہوا پانی جلا دیتاہے کھال کو

ایسے ہی جلایا ہے ان آوازوں نے

دنیا سے ہر احساس کو

لیکن
میں نے بچایا اپنے سچ کو

اور چلتی جارہی ہوں

سب سے الگ

سن کے انجان رہنے کا عمل کچھ اتنا آسان تو نہیں

بس ایک دیوانگی ہے

جو مجھے بے چین کیے ہوئے ہے

ایک عجب سی کھوج ہے

اُن سوالوں کی

جو گھٹن بن گئے ہیں سانس لینے کے عمل میں

مگر توُ کہاں ہے پیرِ دانا

تو،جو رہنما تھا

مصیبت کے ماروں کا

کہاں بھٹک رہا ہے!

تو کیا کل یُگ کی وہ گھڑی آگئی

کہ پیرِ دانا کو شکار کرلے گئیں

ناگوار آوازیں

افسوس صد اٖفسوس

انجلاء ہمیش

اس پوسٹ کو شیئر کریں

One comment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے