کن نے لپٹے بال دکھلائے ترے مانی کے تیں

کن نے لپٹے بال دکھلائے ترے مانی کے تیں
ان نے جو اس طول سے کھینچا پریشانی کے تیں
کشتۂ انداز کس کا تھا نہ جانا وہ جواں
لے رہے تھے کچھ ملک اک نعش قربانی کے تیں
چشم کم سے اشک خونیں کو نہ دیکھو زینہار
ڈھونڈتے ہیں مردم اس یاقوت سیلانی کے تیں
طائران خوش معاش اس باغ کے ہم تھے کبھو
اب ترستے ہیں قفس میں اک پر افشانی کے تیں
ہے جہان تنگ سے جانا بعینہ اس طرح
قتل کرنے لے چلیں ہیں جیسے زندانی کے تیں
یہ کہاں بنت العنب سے اٹھتی ہیں کیفیتیں
ہونٹوں سے کیا اس کے نسبت ایسی مستانی کے تیں
دل جو پانی ہو تو آئینہ ہے روے یار کا
خانہ آبادی سمجھ اس خانہ ویرانی کے تیں
فہم میں میرے نہ آیا پردہ در ہے طفل اشک
روئوں کیا اے ہم نشیں میں اپنی نادانی کے تیں
کچھ نظر میں نے نہ کی جی کے زیاں پر اپنے ہائے
دوست میں رکھے گیا اس دشمن جانی کے تیں
جب جلے چھاتی بہت تب اشک افشاں ہو نہ میر
کیا جو چھڑکا اس دہکتی آگ پر پانی کے تیں
میر تقی میر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے