کیا سمجھتے ہو جناب

کیا سمجھتے ہو جناب ٹکڑے ٹکڑے کر کے
یہ میرا دل تھا تمھارے باپ کی جاگیرتو نہیں
اک طوفان برپا کر دیا گھر کے اندر
تم مکین تھے اس کے کوئی راہگیر تو نہیں
رخ پہ پڑتے ہی مل جائے سکوں ساجیسے
نگاہ یار عطا ہوتی ہے کوئی شمشیر تو نہیں
چاہتوں کے بٹوارے کا سوال کر کے آئی ہوں
حصّےدار بننے گئی تھی کوئی فقیر تو نہیں
عورت ہوں جزبات کی ملکہ ٹھری
جو لٹکتی ہو دیوار پہ وہ تصویر تو نہیں
جیسے گیے ہومڑ کے آ بھی سکتے ہو
خالصتا ضد تھی تیری پتھر پہ لکیر تو نہیں
ٹھنڈے چشمے اونچے پربت،پیڑاور دریا لیکن
دل اب یہ کھنڈر سا ہے وادی بے نظیر تو نہیں
بےحسی،بےوفائی پس پردہ رکھی اس نے
تہمینہ جانتی تھی سب وہ بے ضمیر تو نہیں
تہمینہ مرزا

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے