کیا کیا اجل نے جان چرائی تمام شب

کیا کیا اجل نے جان چرائی تمام شب
کوئی بھی آرزو نہ بر آئی تمام شب
دل سوز کب ہوئے ہیں کہ جب خاک ہو گیا
تربت پہ میری شمع جلائی تمام شب
اے وائے تلخ کامیٔ‌ روز بد فراق
ناصح نے جان غم زدہ کھائی تمام شب
از بس یقین وعدۂ دیدار خواب تھا
کیا خوش ہوئے کہ نیند نہ آئی تمام شب
اک آہ دل نشیں سے وہ بت منفعل ہوا
واللہ کیا ندامت اٹھائی تمام شب
لگتے ہی آنکھ دیکھ لیا جلوۂ نہاں
پیش نظر تھی شان خدائی تمام شب
اسماعیلؔ میرٹھی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے