کیا خبر تھی پھر نیا وقتِ سفر آ جائے گا

کیا خبر تھی پھر نیا وقتِ سفر آ جائے گا
میں تو سمجھا تھا سفر کے بعد گھر آ جائے گا
اس غلط فہمی میں تنہا منزلیں طے ہو گئیں
چل پڑوں گا میں تو کوئی ہم سفر آ جائے گا
اتنی بے پروائیوں سے بھولنا ا چھا نہیں
یہ ہنر ہے تو ہمیں بھی یہ ہنر آ جائے گا
جب نصیبوں میں نہیں ملنا تو یوں ہو گا عدؔیم
وہ اُدھر جاؤں گا جس دن وہ اِدھر آ جائے گا
اٹھ بدل ہی ڈال کپڑے اور منہ دھو لے عدؔیم
تو نے جب سوچا نہیں، اس دن وہ گھر آ جائے گا
عدیم ہاشمی 

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے