کیا اسلام دین، ہندو ہی تھا؟

کیا اسلام دین، ہندو ہی تھا؟
وہ ڈرتے ڈرتے کمرے میں داخل ہوا۔ پھٹے پھٹے کالے بد وضع پاؤں، جیسے ساری عمر جوتا نہ پہنا ہو۔ ٹیڑھی نچی کھچی ٹانگیں، پرانے لیکن دھلے ہوئے، صاف ستھرے کپڑے جو گھس گھس کر اتنے باریک ہو چکے تھے کہ ان کے اندر بھوکا پیٹ، خشک جلد اور سوکھا پنجر صاف دکھائی دے رہا تھا۔ پسلیوں کی ہڈیاں اور ان سے جڑا چمڑا دیکھ کر دھونکنی کا گماں ہوتا تھا۔ سکڑے ہونٹ، پھیلے نتھنے، جھریوں والے گال، خوف و اضطراب اور خوشی کی آمیزش سے مسکرانے کی کوشش کرتی، بڑے بڑے گڑھوں کے اندر سے دکھائی دیتی ہوئی آنکھیں، اس کے بولنے سے پہلے ہی تمام کہانی سنا رہی تھیں۔
میں نے اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ لیکن وہ لکڑ بنا کھڑا رہا۔ ”تم اس عمر میں یہ کیوں کروانا چاہتے ہو۔“
”اے بتانا جروری ہے؟“ وہ ڈرتے ڈرتے بولا۔ ”نہیں۔ میں اس لئے کہہ رہا ہوں کہ اس عمر میں خود کو کیوں مشکل میں ڈال رہے ہو۔ اخراجات زیادہ آئیں گے اور ٹھیک ہونے میں بھی پندرہ بیس دن لگ سکتے ہیں۔“
”کوئی گل نیں۔ مجھے پتا ہے۔“
”ٹھیک ہے، پھر یہ ٹیسٹ کروا لو اور کل دوپہر بارہ بجے آ جانا۔“
اگلے دن آپریشن شروع کرنے سے پہلے میں نے اسے پھر ڈرایا، ”عمر زیادہ ہونے کی وجہ سے بیہوش کرنا خطرناک ہو سکتا ہے اور سن کرنے سے کچھ نہ کچھ درد ہوتا رہے گا۔“ بولا ”سن نہ وی کریں تو فیر وی کوئی بات نہیں، میں درد برداشت کر لوں گا۔“
”پھر سوچ لو، تمہاری عمر کافی زیادہ ہے۔“
کہنے لگا ”میں نے سنا ہے کہ حضرت ابراہیمؑ کی عمر اس وقت اک کم، سو سال تھی۔ اور اس نے تو ترکھان کے اوزار سے خود ہی کر لئے تھے۔“ میں خاموش ہو گیا اور عملے کو تیاری کرنے کا کہہ دیا۔ کچھ دیر کے بعد پھر وہی سوال پوچھا کیا تو بولا۔
”ڈاکٹر صاب! میں چھ سات سال کا تھا کہ اجاڑ پڑ گیا۔ مندر کے ساتھ ہمارا گھر تھا۔ کچھ مر گئے باقی ہندوستان بھاگ گئے۔ میں ڈر کے مارے منجی کے نیچے چھپا رہ گیا۔“
فسادات کی وہی افسوس ناک کہانی تھی۔ وہ اکیلا رہ گیا تھا۔ کئی دن مندر کے نیچے بہتے ہوئے پہاڑی نالے سے پانی پی پی کر گزارا کرتا رہا۔ مندر میں اسے کھانے کو کچھ مل سکتا تھا لیکن وہ اس دن کو نہیں بھولا تھا جب دوسرے بچوں کے ساتھ کھیلتے کھیلتے وہ مندر کے اندر چلا گیا تھا۔ اس بات پر پادری اور گاؤں کے لوگوں نے اس کے والدین اور برادری کو تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔ اس نے پہلی بار کرشن بھگوان اور رادھا دیوی کی مورتی کو دیکھا تھا۔
بھگوان اتنا خوبصورت ہو گا اس نے تو کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔ اس دن تمام گاؤں والوں نے مل کر مندر کا شدھی کرن کیا تھا۔ اب مندر ویران ہو چکا تھا۔ ان دنوں میں اس کا بہت دل چاہتا تھا کہ وہ ان کے چرن چھوئے لیکن یہ بھی نہیں چاہتا تھا کہ مندر کے اندر جا کر اسے پھر اشدھ کر دے۔ بھگوان کو ماننے والے سب گاؤں چھوڑ کر جا چکے تھے۔ صرف چند مسلمانوں کے گھر ہی آباد رہ گئے تھے۔ اب کس نے دھونا تھا۔
رات کو وہ چھپ کر اپنے گھر میں چلا جاتا۔ گھر کیا تھا؟ ایک کچا کمرہ اس کے آگے کھجور کے پتوں اور سرکنڈوں کا بنا ہوا ایک ڈھارا۔ مٹی کی چار دیواری جسے با آسانی پھلانگا جا سکتا تھا۔
کچھ دنوں کے بعد مہاجر آنا شروع ہو گئے۔ وہ رات سویا ہوا تھا کہ ایک بوڑھی اکیلی عورت اس کے کمرے میں داخل ہوئی۔ وہ اسے دیکھ کر ڈر گیا۔ رونا شروع کر دیا تو اس نے اپنے ساتھ لگا لیا۔ اگلے دن جب لوگوں کو پتا چلا تو انہوں نے مارنے کی کوشش کی لیکن وہ آڑے آ گئی اور کہنے لگی، ”بچے کو بلا قصور کیوں مارتے ہو؟“ گاؤں والے بولے، ”یہ ہندو ہے۔“
”میں اسے اسلام کی تعلیم دوں گی اور اسے بہترین مسلمان بناؤں گی۔ یہ میرا اسلام دین ہے۔ میرے بچے تو مارے گئے یہ میرے بڑھاپے کا سہارا بن جائے گا۔“
اسی عورت نے اسے پالا۔
اب وہ بوڑھا ہو چکا ہے۔ ایک بیٹا بھی ہے جو کہ سعودیہ میں مزدوری کرتا ہے۔ اس سال بیٹے نے حج کے لئے بلانا ہے۔ کہنے لگا، ”پنڈ کے لوگ ابھی بھی مینوں ہندو ہی کہتے ہیں، میرے ختنے جو نیں ہوئے۔ کئی دفعہ مسجد سے نکال دیتے ہیں۔ کہتے ہیں تو ناپاک اے۔ مسجد کو پلید کر دیتا ہے۔ ڈاکٹر صاب ہے تے سچ کہ میں ملیچھ شودر آں۔ میرے غریب کی اتنی اوقات نیں تھی کہ اللہ کے گھر متھا ٹیک سکدا۔ اس نے آپ بلایا ہے۔ اب راستے میں جے کسی کو شک پے گیا اور چیک کر لیا تے مینوں واپس کر دیں گے۔“
میں ہنستے ہوئے بولا، ”کوئی چیک نہیں کرتا۔ اور جب تم نے کلمہ پڑھ لیا تو پاک بھی ہو گئے۔ مسلمانوں میں ملیچھ شودر کوئی نہیں ہوتا۔ اگر یہی خوف ہے تو ختنے کروانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ پھر سوچ لو۔“
”نیں ڈاکٹر صاب! میں نے ایس ناپاکی میں اللہ دے گھر نہیں جانا۔ اے سنتاں نیں، آپ اللہ کا نام لو تے کر دو۔“
میں اس کی با ت سن کر لا جواب ہو گیا۔ جاتے ہوئے میں نے اس کے گاؤں کا پتا پوچھا اور کہا، ”جب حج کے لئے جانے لگو تو مجھے ضرور بلانا۔ میں تمہیں رخصت کرنے آؤں گا۔“
پھر ملک میں وبا پھیل گئی اور حکومت نے حج پر پابندی لگا دی۔ مریضوں کا رش بڑھتا جا رہا تھا۔ بیماری شہر شہر اور گاؤں گاؤں پھیل چکی تھی۔ ایک دن وہ میرے پاس آیا تو اسے بھی ہلکا سا بخار تھا۔ میں نے ٹیسٹ کروانے کے لئے سرکاری ہسپتال بھیج دیا۔ ہفتہ دس دن گزر گئے وہ واپس نہ آیا۔ اس کے گاؤں سے ایک مریض آیا تو میں نے اس سے پوچھا۔ مریض کہنے لگا ”میں دو دن پہلے کا آیا ہوا ہوں۔ مجھے پتا چلا تھا کہ وہ ہسپتال گیا تھا لیکن کسی نے اسے داخل ہی نہیں کیا۔
اب اپنے کمرے میں ہی اکیلا کھانس رہا ہے۔ گاؤں میں بھی بیماری پھیلی ہوئی ہے۔ ہر طرف ڈر اور خوف کا راج ہے۔ اپنا کوئی اس کا ہے نہیں اور گاؤں کے لوگ اس کے پاس جاتے نہیں۔ ”مجھے یہ سب سن کر بہت افسوس ہوا۔ مقامی ہسپتال کا ایم ایس میرا دوست تھا میں نے اسے ایمبولینس بھیجنے کا کہا اور خود بھی ساتھ ہی چل پڑا۔ گاؤں پہنچے تو دیکھا کہ پرانے مندر کے کھنڈرات کے پاس چند لوگ جمع ہیں۔ میں نے پوچھا کہ کیا ہوا لوگ بولے کہ پرسوں رات وہ مر گیا تھا لوگوں کو اس وقت پتا چلا جب ہر طرف بو پھیل گئی۔ کوئی اندر جانے کو تیار نہیں تھا۔ پولیس کو اطلاع دی۔ لوگ مر ہی اتنے رہے ہیں وہ بھی نہ آئے تو کچھ شر پسندوں نے تیل پھینک کر ڈھارے اور کمرے کو آگ لگا دی۔
”اوہ! تم نے اس کی لاش کو دفن کرنے کی بجائے آگ لگا دی۔“ میں غصے سے چلانے لگا۔
”ڈاکٹر صاحب، چھوڑیں! وہ ویسے بھی ہندو ہی تھا۔“ گاؤں کے لوگ بولے۔
میں سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔ ان جاہلوں کو پتا ہی نہیں کہ اسلام دین کا ایمان تو پورے گاؤں کی بخشش کے لئے کافی تھا۔
مجھے مدینہ کی ایک عورت کے بارے میں حضور ﷺ کے الفاظ یاد آ گئے۔
” اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر اہل مدینہ کے ستر لوگوں میں تقسیم کر دی جائے تو سب کو کافی ہو۔“
سید محمد زاہد

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے