خواہش

کوئی جو ہوتا
یہاں نہیں تو کہیں کسی اور دیس کی بے قراریوں میں
کوئی جو ہوتا
کبھی میں اپنی اداس سوچوں میں اس کا بے نام تصور سجا کے
پہروں اداس لہجے میں باتیں کرتا
اسے سناتا عذابِ جاں کے سفر کے قصے
قدم قدم پہ بچھی ہوئی اک نظر کے قصے
محبتوں اور ہجرتوں کے
جدائیوں اور اداسیوں کے
سبھی فسانے اسے سناتا
کئی زمانے اسے سناتا جو دل پہ گذرے
کبھی میں اپنے اداس جیون کی تنگ گلیوں کے حبس سے
اور دکھ سے گھبرا کے
اس کی جانب پیام لکھتا
ہواؤں پہ اس کے نام لکھتا
میں اس کو لکھتا کہ میری بستی کے سارے موسم تھکن زدہ ہیں
ہماری صبحیں،ہماری شامیں،ہمارے سپنے ،ہماری چاہت
ہمارا سب کچھ نجانے کن بے نشاں ٹھکانوں میں جابسا ہے
اور آج کل ہم بغیر روحوں کے سنگ آسا بدن زدہ ہیں
میں اس کو لکھتا
کہ اب تو ہم سب مہیب نیندوں سے چیخ اٹھتے ہیں
جیسے دیکھ آئے ہوں کسی خواب جاں بلب کو
کبھی میں خوابوں میں اس سے ملتا
وہ خواب کی زرد چاندنی میں
مرے بدن کے قریب ہوتا
میں اس کے مانوس لمس کو اپنی دھڑکنوں میں اتار لیتا
مکان دل کو سنوار لیتا
میں اس کو اپنا سمجھ کے اس سے سوال کرتا
یہ کیسا دکھ ہے کہ خواب تک میں بھی روشنی کا حصول ممکن نہیں رہا ہے
میں دیر تک اپنی دھن میں اس سے سوال کرتا
مگر مرے ہر سوال پر وہ خموش رہتا
میں اس کی خاموشیوں پہ دھیرے سے چونک اٹھتا
مجھے یہ لگتا کہ وہ میرے درد سے بے خبر کہیں
اپنی زرد آنکھوں سے دور گہرے خلا کو تکتا ہو
اور خلا جیسے دور سے دور تک سسکتا ہو
لمبی خاموشی اس کی پھرسے مجھے خود اپنے وجود میں قید کر کے
مجھ کو اجاڑ دیتی
میں پھر سے خود میں بکھر سا جاتا
اور اپنی بیمار روح کی دھڑکنوں سے کہتا
کوئی جو ہوتا
یہاں نہیں تو کہیں کسی اور دیس کی بے قراریوں میں
کوئی جو ہوتا
عدیم ہاشمی 

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے