خواب کے سحر سے بچا لیا جائے

خواب کے سحر سے بچا لیا جائے
صبح ممکن ہے سب کو آ لیا جائے
وقت پر کام آئے گا اپنے
آپ سے کچھ نہ کچھ چھُپا لیا جائے
دوست کہتے ہیں عشق دھوکا ہے
دل کا یہ مشورہ ہے کھا لیا جائے
روشنی پھیلتی نہیں کیونکر
سب چراغوں کا جائزہ لیا جائے
چلتے چلتے میں تھک چکا ہوں بہت
شامیانہ کہیں لگا لیا جائے
ایک درویش سے روایت ہے
دھوپ میں رابطہ بڑھا لیا جائے
کس قدر صاف آسمان ہے آج
کوئی منظر اگر بنا لیا جائے
سیدہ آپ کی اجازت ہے
وقت پر سے نقاب اُٹھا لیا جائے
کوئی ایسا بھی کام ہو جس کا
اگلی نسلوں تلک مثالیہ جائے
ساعتِ وصل سر پہ آ پہنچی
اب ذرا دیر پھڑ پھڑا لیا جائے
شہر میں آگیا ہوں اس کے لیے
پوچھنا چاہتا ہوں کیا لیا جائے
آتشِ شوق جب بھڑک اٹھے
ٹھیک سے جلنے کا مزہ لیا جائے
خاک ہونے سے لاکھ بہتر ہے
اشک کو خون میں ملا لیا جائے
آگیا ہوں میں آپ سے ملنے
یہ نہ ہو واقعہ بنا لیا جائے
موسمِ گُل ہے دسترس میں آج
پھول جس شاخ پر کھِلا لیا جائے
اور کیا بوجھ اُٹھائیں گے ہم لوگ
اپنا مصرعہ کوئی اُٹھا لیا جائے
یوں نہ ہو جس پہ چل رہا ہوں میں
کل یہی راستہ بنا لیا جائے
اور بھی لوگ آئینگے آزر
دائرہ جس قدر بڑھا لیا جائے
دلاور علی آزر 

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے