خواہشیں ہوش کھوئے جاتی ہیں

خواہشیں ہوش کھوئے جاتی ہیں
درد کے بیچ بوئے جاتی ہیں
انگلیوں سے لہو ٹپکنے لگا
پھر بھی کلیاں پروئے جاتی ہیں
کیسا نشہ ہے سرخ پھولوں میں
تتلیاں ان پہ سوئے جاتی ہیں
کتنی پیا ری ہیں چاندنی راتیں
تم کو دل میں سموئے جاتی ہیں
چوڑیاں بھولے بسرے بچپن کی
کیسی ٹیسیں چبھوئے جاتی ہیں
کچھ بھی اس نے کہا نہیں لیکن
آنکھیں ہر لمحہ روئے جا تی ہیں
وقتِ رخصت خوشی کی بوندیں کیوں
میرا گھونگھٹ بھِگوئے جاتی ہیں
دھوپ سے میں نے بھر دیا آنگن
بارشیں پھر بھی ہوئے جاتی ہیں
میرے نیناں کو حسرتیں میری
آنسوؤں میں ڈبوئے جا تی ہیں
فرزانہ نیناں

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے