خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ

خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ
آ پ میری بات سن رہے ہیں یا نہیں ! ثمینہ نے کہا،ہاں سن رہا ہوں کیا کہہ رہی ہو تم ؟ یہی کہ ارسلان پہلی مرتبہ پاکستان جا رہا ہے تو میں چاہتی ہوں کہ وہ پورا پاکستان دیکھ کر آئے جواس کا وطن ہے،ہاں ثمینہ تم ٹھیک کہتی ہو،ہے کدھر یہ ہما را ارسلان اور تیاری مکمل کر لی یا نہیں اس نے، خورشید نے پو چھا۔ ہاں ہاں کر لی ہے میں نے دیکھ لیا ہے اس کا سامان۔میں دیکھ کے آتی ہوں اب کتنی دیر ہے اسے ڈنر کھا لے باقی تیا ری پھر بعد میں کر لے،ہاں جاؤ دیکھ آؤ۔
دروازہ کھلا تھا اور ارسلان کمپیوٹر کے سامنے بیٹھا پا کستان کی مشہور جگہوں کو دیکھ رہا تھا اس کی آنکھوں میں عجب سی خو شی تھی ان جگہوں کو دیکھتے ہوئے اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ ابھی پہنچ جائے اور اس سرزمین کو اپنی آنکھوں سے دیکھے،ارسلان باقی بعد میں دیکھ لینا۔ارے امی آپ کب آئی مجھے معلوم ہی نہیں ہوا، کیسے معلوم ہوتا تم اتنے کھوئے ہوئے تھے ان تصویروں میں، ـ امی ابھی تو میں تصویر کی نظر سے پاکستان کو دیکھ رہا ہوں جب میں اپنی نظر سے دیکھ لوں گا تب سکون ہو گا۔ ہاں بیٹا جی، تم کیمرہ ضرور رکھ لینا اور ہر منظر کی تصویر بنا لینا۔ چلواس بہانے تمھارے ماں با پ بھی اپنے وطن کو دیکھ لیں گے۔۔
ارسلان کی سوچ اپنے ملک کے بارے میں اتنی شاندار اس لیے تھی کیوں کے اس کے ماں باپ اپنے وطن کی قدر جانتے تھے اس لیے انھوں نے ارسلان کو بھی وہی سوچ دی جس کی وجہ سے ارسلان مجبور ہو گیا کے جس وطن کی بات اس کے ماں باپ کرتے ہیں اس کو دیکھے تو آخر کیا چیز ہے اس میں جو میرے ماں باپ کی آنکھوں اس زمین کے لیے اتنا تقدس آ جا تا ہے۔ ثمینہ اور خورشید اب پاکستان شفٹ ہونا چاہتے تھے کہ وہ اپنی باقی زندگی اپنے دیس میں گزارنا چاہتے ہیں اور اسی لیے چاہتے تھے کہ ارسلان پاکستان جائے اور اس زمین کو دیکھ کر آئے اور فیصلہ خود کرے اسے لندن رہنا ہے یا پاکستان۔۔۔۔۔
۳مارچ وہ دن تھا جب اس کا جہاز پاکستان کے ائیر پورٹ پر اتر رہا تھا آج میں پہلی مرتبہ اپنے قد م اس زمیں پر رکھوں گا جانے کیوں ایسا لگ رہا ہے جیسے آج ہی میں آزاد ہوا ہوں اور آزادی کے بعد اپنی سرزمین کو دیکھوں گا۔جہاز کا دروازہ کھل چکا تھا اور تمام مسافر اتر رہے تھے ارسلان بھی اترنے لگا، اترنے کے بعد وہ کچھ اسی جگہ پر رک گیا اس نے ہوا کو محسوس کیا،
کیا بات ہے آج میں پاکستان میں ہو ں یا اللہ تیر ا شکر ہے جا نے کیوں ہم لوگوں کو پر دیسی بن جانا پڑتا ہے اور ایسے پردیسی جو اپنی ہی زمین کے لیے سسکتے رہتے ہیں۔خوشی اس کے چہر ے پر چھلک رہی تھی،ارسلان ائیرپورٹ سے با ہر نکلا اور ٹیکسی لے لی، ٹیکسی ڈرائیور جو کے بہت بولتا تھا،نا م اس کا خیردین تھا اور جتنی دیر وہ ٹیکسی میں رہا ارسلان اس کی باتیں توجہ سے سنتا رہا، اس نے پاکستان کی ہر مشکل بڑی روانی سے بیان کر دی تھی ہزاروں شکوے تھے اس پاکستان سے، اتنی مہنگائی ہو گئی ہے لیڈر بھی اچھے نہیں ہے کچھ ملتا ہی نہیں پاکستان سے، یہ وہ تمام باتیں تھی جو خیر دین نے ارسلان سے کی، ہو ٹل تک کا سفر صرف شکایت سننے میں صرف ہو ا۔ارسلا ن نے خیردین کے نظریے سے پاکستان دیکھ لیا لیکن ابھی اس کا خود نظر یہ رہتا تھا۔وہ ہوٹل پہنچ گیا ہوٹل بڑا شاندار تھا ضرورت کی ہر چیز میسر تھی وہ اپنے کمرے میں پہنچ گیا سامان رکھا کیمرہ لیا اور باہر آ گیا۔ ارسلان پیدل چل رہا تھا اس نے پاکستان دیکھنا تھا ہر نظریے سے، سامنے چند بچے سکول جا رہے تھے بچوں نے ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑا اور پوری سڑک پر لائن بنا کر دوسرے کنا رے پر پہنچ گئے،بلکل ان پرندوں کی طرح جو ایک ساتھ بلندی پر اڑتے ہیں، اس نے تصویر بنا ئی اور آگے چل پڑا،کافی سارے چھابڑی فروش تھے جو سبزیاں اور پھل بیچ رہے تھے، اور بڑی زور زور سے آوازیں لگا رہے تھے، فرق صرف اتنا تھا اپنا اپنا لہجہ تھا،ارسلان نے ان کی تصویر یں بنا ئی اور آگے بڑھ گیا اب وہ پرانے محلوں میں آ چکا تھا نام تو معلوم نہیں تھا ان محلوں کا اسے لیکن بہت بوسیدہ گلیاں تھی ان محلوں کی،وہ ایک گلی مڑتا تو دوسری میں پہنچ جاتا یوں چلتے چلتے وہ ایک ایسے گھر کے سامنے رک گیا جس کا دروازہ نہیں تھا۔اس کے سامنے ایک ٹوکری والی بوڑھی عورت بیٹھی تھی۔
وہ اس کے پاس بیٹھ گیا او ر پوچھنے لگا آپ کیا بیچتی ہیں،بوڑھی عورت نے جواب کیا خوب دیا وہ حیران ہو گیا،بوڑھی عورت نے اتنے یقین کے ساتھ کہا کہ میں خوشی فروخت کرتی ہوں !
وہ کیسے ؟ یہ چوڑیاں جو میں نے رکھی ہیں جب خواتین پہنتی ہیں تو خوش ہوتی ہیں نا۔جی جی بالکل۔۔۔
محلے کے سب گھروں میں دروازے ہیں آپ کے گھر کا دروازہ کیوں نہیں بی اماں۔۔۔! پتر دروازے کی ضرورت تو ان کو ہوتی ہے جو ڈرتے ہیں مجھے ڈر نہیں ہے دروازے کا چکر بڑا پرانا ہے اس لیے یہ پردہ کافی ہے میرے گھر کے لیے۔
آپ کا ان چندپیسوں سے کام چل جاتا ہے ؟کیوں نہیں پتر دو وقت کی روٹی آسانی سے مل جاتی ہے، جب خواہش کم ہوتی ہے تو زندگی بڑی آسان اور مطمئن ہوتی ہے بیٹا مصیبت تو اس وقت ہوتی ہے جب انسان خواہش کو مرکز ہی بنا لے۔ ارسلان وہاں ہی بیٹھا رہا اور اس بوڑھی عورت کو دیکھتا رہا گاہک آتے رہے جاتے رہے، شام ہو گئی لیکن ارسلان وہاں سے نہ اُٹھا وہ اس ٹیکسی چلانے والے اور چوڑیاں بیچنے والی کا مقابلہ کر رہا تھا، اس دیس میں کتنے رنگ ہیں جو پوشیدہ ہیں،بوڑھی عورت اُٹھنے لگی اس نے دیوار کو ٹٹولا اور اپنی چھڑی ڈھونڈ لی اس کے سہارے وہ اپنے گھر میں داخل ہو گئی، ارسلان کو اب معلوم ہو ا جس بوڑھی عورت سے وہ بات کر رہا تھا وہ نا بینا تھی، جس کا احساس ارسلان کو ہو گیا ہے۔
وہ واپس ہوٹل کی طرف چل پڑا تھا اس نے آج زندگی کا بہترین سبق پڑھ لیا تھا جو پردیس میں رہتے ہوئے وہ کبھی نہ سیکھ سکا۔۔۔ہوٹل پہنچتے ہی اس نے اپنے ماں باپ کو فون کیا اور بتایا کہ پردیسی بننا بڑا مشکل ہے دیس والے، دیس والے ہی ہوتے ہیں ابو! خورشید احمد اپنے بیٹے کی باتیں بخوبی جانتا تھا اور اس کی آنکھیں بھیگ رہی تھی ایسے ہی جب وہ اپنا دیس چھوڑ کے پردیس جابسا تھا۔۔۔فیصلہ ہو گیا تھا لندن پر پاکستان کو فوقیت مل چکی تھی۔۔۔
مٹی کی محبت بھی عجب محبت ہے انسان بھی ماٹی بن جاتا ہے۔۔۔
میمونہ احمد

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے