خوشی خوشی سے مگر اپنے بن رہا ہوں میں

خوشی خوشی سے _ مگر اپنے بن رہا ہوں میں
کہیں گزارے ہوئے سال گن رہا ہوں میں
میں کیا بتاؤں یہاں رہنا کتنا مشکل ہے
خود امتحان تھا خود ممتحن رہا ہوں میں
اب اعتبار نہیں سردیوں کی بارش کا
سو تم بتاؤ یہاں کتنے دن رہا ہوں میں
سنا ہے شہر میں سب کچھ بدل گیا ، لیکن
تری طرف سے بہت مطمئن رہا ہوں میں
کسی کی جان پہ بن آئی تو میں یاد آیا
کسی کے واسطے بوتل کا جن رہا ہوں میں
بہنام احمد

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے