خوش تھا وہ مجھ کو دربدر کر کے

خوش تھا وہ مجھ کو دربدر کر کے
مطمئن میں بھی ہوں سفر کر کے
یاد بن کر لہو سے گزرے ہو
رکھ گئے ہو مجھے کھنڈر کر کے
پیار کر کے مجھے تباہ کیا
یعنی کاٹا مجھے شجر کر کے
میں سمجھتا تھا تیری منزل ہوں
تُو بھی گزرا ہے رہگزر کر کے
اپنا حاصل ہے صرف محرومی
انتظار اُس کا عمر بھر کر کے
شاذ توڑا طلسمِ شب کس نے
بُجھ گیا کون یہ سحر کر کے
شجاع شاذ

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے