کھردری گرد کی کھال

کھردری گرد کی کھال

بس تری ایک خواہش کی تعظیم میں
زندگی بے تعلق زمینوں کے زینے اترتی رہی
وقت کے بھر بھرے دھیان کی قاش
ہاتھوں میں لے کر
سہولت کی مٹی بجاتی رہی
خوف آنگن کی پوروں میں
جب گھونسلوں کی بنا رکھ رہا تھا
تو میں نے کہا تھا
ہمیں دن کے دائیں طرف کی چنبیلی کی خوشبو کو
دیوار کے اس طرف روکنے کی ضرورت پڑے گی
مگر وہ تری ایک خواہش کی تعظیم تھی
ہم تعلق کی دیوار کے اس طرف
پھیلتی رائیگانی لٹاتے رہے
لوگ آتے رہے اور جاتے رہے
اب زمانہ کسی ساحلی ریت کی مثل
جسموں سے چپکا ہوا ہے
دھواں بیٹھ جائے تو اٹھیں
کہانی کا شانہ ہلا کر
اضافی تحیر کا پوچھیں
پرانے دنوں پر جمی
کھردری گرد کی کھال ادھڑے
تو دیوار کی باقی ماندہ جسامت کا اندازہ ہو
منیر جعفری

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے