خنک شہرِ ایران

خنک شہرِ ایران

نیر مسعود

سڑک پر درخت ہی درخت تھے ، آسمان صاف شفاف تھا
تنہا درخت اپنے اپنے سروں کو آسمان میں چھپائے کھڑے تھے۔
وہ کب آسمان میں تھے
میں نے انھیں پکارا
"اچھے درختو، سفید اونچے درختو، مہربان درختو
آسمان تک بلند، آزاد درختو
میرا ہاتھ تھامو گے ؟

(پروانہ نیک خصال)

۲۵ جنوری ۱۹۷۷
"دوستانِ عزیز، کچھ دیر میں ہمارا طیارہ تہران کے مہر آباد ہوائی اڈے پر اترنے والا ہے۔ امید ہے آپ اس سفر سے محظوظ ہوئے ہوں گے۔ تہران میں موسم خوش گوار ہے۔ فضا قدرے کہر آلود، درجۂ حرارت صفر سے آٹھ درجے نیچے۔ متشکرم۔”
ہم لوگ، صفر سے آٹھ درجے اوپر کے موسم میں کپکپانے والے ، اچھی طرح اوڑھ لپیٹ کر جہاز سے نیچے اترے تو معلوم ہوا برف کی بھٹّی میں کود پڑے ہیں۔
ہوائی اڈے کی عمارت گرم تھی، وزارتِ فرہنگ کے نمائندے استقبال کے لیے موجود تھے۔ ہیلتھ سرٹیفکیٹ دیکھنے والا عملہ آگے بڑھا، نمائندوں نے سرگوشی کی:
"مہمانونِ دولت!”
اور ہم سب کی صحت شکوک سے بالا ہو گئی۔ کسٹم پر بھی یہی منتر کام آیا اور سامان کی جانچ پڑتال نہیں ہوئی۔ سرکاری مہمان ہونے کے فوائد یہیں سے سمجھ میں آنے لگے ، نقصانات بعد میں سمجھ میں آئے۔ سرکاری فوٹوگرافر نے ہوائی اڈے ہی پر ہم لوگوں کے اوور کوٹوں، مفلروں اور کنٹوپوں کا ایک گروپ فوٹو لیا جسے دیکھنے کی حسرت رہ گئی۔
رات کا وقت تھا، بازار بند تھے۔ ٹیکسیوں کا قافلہ ہمواری کے ساتھ چلا اور اس پہلی رات کو وہ لفظ سننے میں نہیں آیا جو تہران میں "متشکرم” اور "خواہش می کنم” کے بعد سب سے زیادہ بولا جاتا ہے ، یعنی "شلوغ”۔ ٹیکسیاں رودکی ہوٹل پر جا کر رکیں جہاں ہماری "اقامت” کا بندوبست کیا گیا تھا ("قیام” نہیں ، اس لیے کہ قیام فارسی میں بغاوت کو کہتے ہیں۔) ہوٹل میں سنٹرل ہیٹنگ تھی لیکن کچھ سفر کی تکان اور کچھ باہر کے درجۂ حرارت، بلکہ درجۂ برودت، کا خیال تھا کہ سب کے اعضا و جوارح چائے طلب کر رہے تھے۔ ہوٹل کے منتظمین سے رجوع کیا گیا تو وہ پریشان سے نظر آنے لگے :
"متاسّفانہ چای…”
اُدھر یہ حیرت تھی کہ ایسے بھی لوگ ہوتے ہیں جو گیارہ بجے رات کو چائے پینا چاہتے ہیں، اِدھر یہ کہ روئے زمین پر ایسے بھی ہوٹل ہوتے ہیں جہاں دس گیارہ بجے رات کو چائے کا باب بند ہوتا ہے اور آسمان اپنی جگہ قائم رہتا ہے۔
"ہوتیل رزیدانس رودکی” تین ستاروں والا ہوٹل ہے۔ کمرے اور بستر وغیرہ آرام دہ تھے۔ سب پڑ کر سو گئے۔ سویرے آنکھ کھلتے ہی کھڑکی سے البرز کوہ سرتاپا برف نظر آیا اور دیکھتے دیکھتے نگاہوں سے غائب ہو گیا۔ دور تک مکانوں کی چھتوں پر اور سڑک کے کنارے کنارے روئی سی دھنکی ہوئی پڑی تھی۔ یہ منظر نگاہوں میں اترنے سے پہلے ہی ناشتا آ گیا __ دیگر لوازم کے ساتھ برف کے ٹکڑوں سے کھنکھناتے ہوئے گلاسوں میں سنگترے کا رس۔ دو ایک ساتھیوں کی کراہیں سنائی دیں لیکن توکلت علی الله تعالیٰ کہہ کر سب نے گلاس ہونٹوں سے لگا لیے اور اعتراف کیا کہ موسم کے لحاظ سے کوئی بے جا مشروب نہیں ہے۔
کچھ دیر میں وزارت کے نمائندے صاحب تشریف لائے۔ یہ میزبانوں کی طرف سے ہمارے رہبر مقرر ہوئے تھے۔ ان پر سوالوں کی بوچھار ہوئی۔ انھوں نے ہر سوال کا جواب فوراً دیا اور انگریزی میں دیا۔ سوال و جواب کی جدول حسبِ ذیل ہے :

سوال جواب
۔ پروگرام کیا ہے ؟ آئی دونت نو
۔ صرف تہران میں رہنا ہے یا دوسرے شہروں کی بھی سیر ہو گی؟ ایضاً
۔ انجمن اساتذۂ فارسی کا سیمینار کہاں ہو گا؟ ایضاً
۔ سیمینار میں کن کن ملکوں کے لوگ شریک ہو رہے ہیں؟ ایضاً
۔ سیمینار کب ہو گا؟ ایضاً
۶۔ دوسرے مہمان کہاں ٹھہرے ہیں؟ ایضاً

ان شافی جوابات کے بعد ان کا نام پوچھنے میں کوئی فائدہ نظر نہ آیا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ آقائے مزیّن ہیں۔ اگرچہ اُس وقت تو ایسا معلوم ہو رہا تھا کہ یہ ہم لوگوں کے بجائے قوم کی رہبری کے لیے زیادہ مناسب ہیں، لیکن واقعہ یہ ہے کہ بے چارے نے رہبری کا حق ادا کر دیا۔ دراصل وہ اتنا ہی جانتے تھے جتنا انھیں بتایا گیا تھا اور جتنا انھیں بتایا گیا تھا اس سے زیادہ وہ پوچھ نہیں سکتے تھے __ اس کا دستور نہیں تھا۔
کھانے کے لیے ہوٹل کے ڈائننگ ہال میں پہنچے۔ مینو دیکھا تو معلوم ہوا انگریزی کارخانہ ہے ، یعنی ایران کا قومی کھانا "چلو کباب” تک نہیں تھا۔ کھانے پر پانی منگوایا گیا تو اس میں بھی برف پڑی ہوئی۔ سادہ پانی کی درخواست کی گئی جس کا انتظام خاصی دشواری سے ہوا۔ اور یہ بات ویٹروں کے خاطر نشیں ہو گئی کہ یہ لوگ چائے دودھ کے ساتھ اور پانی برف کے بغیر پیتے ہیں، اور انھوں نے ایک دوسرے کو اچھی طرح سمجھا دیا:
"چای باشیر، آب بدونِ یخ۔”
اس پر مجھے ایک دوست یاد آئے جنھوں نے کہا تھا کہ اردو میں ice اور snow کے لیے الگ الگ لفظ نہیں ہیں۔ میں نے عرض کیا تھا کہ اردو کا پالا اگر snow سے پڑا ہوتا تو اس کے لیے یقیناً کوئی لفظ ہوتا جوice کے متبادل لفظ سے مختلف ہوتا۔ ایران میں snow کے لیے "برف” اور ice کے لیے "یخ” کا لفظ ہے ، اور ان دونوں لفظوں کو کبھی خلط ملط نہیں کیا جاتا۔
لنچ کے بعد ہمارے رہبر ٹیکسیاں لیے ہوئے پہنچ گئے۔ ان سے پوچھا گیا کہاں چلنا ہے۔ جواب ملا:
"موزہ۔”
پھر ارشاد ہوا کہ اگر وہاں سے جلد فرصت مل گئی تو کاخِ مرمر چلیں گے۔ پوچھا گیا کاخِ مرمر میں کیا ہے ؟ جواب ملا:
"موزہ۔”
اس وقت تک ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ شہر تہران میں کتنے میوزیم ہیں، یہ بھی نہیں معلوم تھا کہ ہمارے میزبان ہمارے مختصر سے دورے میں ہم کو یہ سب میوزیم دکھانے پر مستعد ہیں۔ دو ایک دن بعد جب دورے کا چھپا ہوا پروگرام ہاتھ میں آیا تو پتا چلا کہ یہاں زندوں سے ملاقات کا امکان صفر سے بھی کئی درجے کم ہے۔
القصّہ موزۂ ہنر ہای ملّی سے سیرِ ایران کی ابتدا ہوئی۔ یہ ایرانی دستکاریوں کا میوزیم ہے ، لیکن محض میوزیم نہیں، کارخانہ بھی ہے۔ ایک شعبے میں موسیقی کے آلات بن رہے تھے (زیادہ تر وائلن اور گٹار)۔ سنتور، قانون، چنگ ، چنگِ قدیم، طاؤس وغیرہ کے نمونے دیکھنے کو ملے۔ دوسری طرف کرگھے چل رہے تھے۔ قالین اور حریر و سنجاب کی قسم کے کپڑے دیکھ کر فرحت سی ہوئی۔ لیکن سب سے زیادہ دلچسپ شعبہ خاتم کاری کا تھا۔ خاتم کاری کے ہنر کو صفوی عہد میں فروغ حاصل ہوا تھا۔ مختلف رنگوں کی باریک باریک تکونی ترشی ہوئی سینکیں، جو رنگ برنگی لکڑیوں (چوبِ نارنج، چوبِ عنّاب، آبنوس وغیرہ) کے علاوہ اونٹ کی ہڈی، ہاتھی دانت اور دھاتوں کی ہوتی ہیں، انھیں ترتیب کے ساتھ لگا کر اس طرح چپکاتے ہیں کہ ان کی ایک چھڑی سی بن جاتی ہے۔ اس چھڑی میں سے پتلی پتلی ٹکیاں کاٹتے ہیں جن پّر سینکوں کی ترتیب کے مطابق چھوٹے چھوٹے مثلثوں کی رنگین وضع قائم ہو جاتی ہے۔ اس طرح کی مختلف وضعوں والی ٹکیوں کو کسی ہموار سطح پر جما کر طرح طرح کے نقش بنائے جاتے ہیں۔ استاد علی نعمت، جس کی حال ہی میں وفات ہوئی ہے ، اس زمانے میں خاتم کاری کا سب سے بڑا ماہر تھا۔ میوزیم میں جو کاریگر اپنا کام روک کر ہم کو اس فن کے بارے میں بتا رہا تھا اس نے چونی کے برابر ایک ٹکیا دکھائی اور بتایا کہ اس میں تین سو سینکیں استعمال ہوئی ہیں، اور یہ کہ سینکوں کی مجموعی چھڑی بنانا اور اس سے ٹکیاں کاٹنا بہت مشکل اور احتیاط طلب کام ہے۔ ہم نے پوچھا یہ کام مشین سے کیوں نہیں لیا جاتا۔ کہنے لگا "از ماشین نمیسہ”، اس لیے کہ مشین سے وہ صفائی نہیں آ سکتی جو ہاتھ سے آ سکتی ہے۔ شاید اسی لیے وہ عزیز جیتا جاگتا ترقی پذیر ایران کے میوزیم میں رکھا گیا تھا۔
٭٭

کاخِ مرمر میں تصویروں کے ذریعے ایران کی تاریخ رضاشاہ کبیر (موجودہ شاہ کے باپ) کے خصوصی حوالے کے ساتھ دکھائی گئی ہے۔ دیواروں پر ان کی زندگی کے خاص خاص واقعات کے مرقعے کندہ ہیں اور فرش پر اُن مرحوم کی خواب گاہ اور بسترِ استراحت بھی محفوظ ہے۔ کاخِ مرمر کے دو خدّام ہمیں دیکھ دیکھ کر آپس میں کچھ بحث کر رہے تھے۔ جب ہم باہر نکلنے کو ہوئے تو ان سے نہ رہا گیا اور ایک نے بڑھ کر دریافت کیا کہ آپ لوگ مسلمان ہیں یا ہندوستانی۔ جب انھیں ہندوستان میں مسلمانوں کی آبادی وغیرہ بتائی گئی اور یقین دلایا گیا کہ بیک وقت ایک ہی شخص کے لیے مسلمان اور ہندوستانی ہونا محالات میں سے نہیں ہے تو ان کے چہروں پر حیرت اور خوشی کے آثار نظر آئے اور ان میں سے ایک نے دوسرے کو قائل کرنے والی نظروں سے دیکھتے ہوئے ہم سے کہا:
"الان ہمین صحبت میکردم۔” (ہم ابھی یہی باتیں کر رہے تھے۔)
کاخِ مرمر سے واپس آ کر چھپے ہوئے پروگرام کو ایک مرتبہ پھر غور سے دیکھا۔ موزۂ کاخِ گلستان ، موزۂ جواہراتِ سلطنتی، موزۂ مردم شناسی، موزۂ شہیاد، بیچ میں تین دن "جلساتِ انجمنِ استادان زبان وادبیاتِ فارسی”، ایک آدھ وقت "گردش در بازار”، ایک وقت کتابخانۂ مرکزی دانش گاہ تہران۔ سرکاری مہمان ہونے کے اختیارات پہلے ہی سمجھ میں آ چکے تھے ، اب مجبوریاں بھی سمجھ میں آئیں۔ یہ بھی شروع ہی میں محسوس ہو گیا کہ ہمارے میزبان ہم کو مستقل اپنی تحویل میں رکھنا چاہتے ہیں اور ہمارا کام صرف یہ ہے کہ ان کی فراہم کی ہوئی ٹیکسیوں میں بیٹھ جائیں، پھر وہ جہاں لے جائیں اور جو دکھائیں، یہاں تک کہ دورے کی مدت ختم ہو جائے اور ہم ٹیکسیوں میں بٹھا کر ایرپورٹ پہنچا دیے جائیں۔ اب مجھے آزادی کی تلاش ہوئی۔ تہران میں کچھ ہندوستانی دوست تھے۔ ان سے ٹیلی فون پر رابطہ قائم کرنے کا ارادہ کیا تو ڈائرکٹری نہیں مل سکی۔ معلوم ہوا یہاں ٹیلی فون ڈائرکٹری عام طور پر تقسیم نہیں ہوتی اور یہ طریقہ روس سے سیکھا گیا ہے۔ بہرحال کچھ دوستوں کے نمبر میرے پاس لکھے ہوئے تھے۔ علی ظہیر حیدر آباد کے شاعر ہیں، مجموعۂ کلام "رات کے ہزار ہاتھ” حال ہی میں شائع ہوا ہے۔ پہلے ان کو فون کیا۔ وہ اسی وقت ہوٹل چلے آئے۔ انھیں کے ذریعے احسن طباطبائی مرحوم کے صاحبزادے ہادی طباطبائی، ان کے ایرانی دوست سعید نجفی (جو اردو میں افسانے لکھتے ہیں)، سید العلما مولانا سید علی نقی صاحب مجتہد کے صاحبزادے علی محمد نقوی کو بھی خبر ہو گئی۔ ان سب کو یہ معلوم تھا کہ ہم لوگ تہران آ رہے ہیں لیکن ہمارے پہنچنے کی صحیح تاریخ وغیرہ ان لوگوں کو ہر ممکن کوشش کے باوجود نہیں معلوم ہو سکتی تھی (ہندوستانی سفارت خانہ تک بہ ظاہر ہمارے پروگرام سے بے خبر تھا)۔ وزارت فرہنگ و ہنر کی پُرتکلف اور ان دوستوں کی پُر خلوص میزبانی نے اس دورے کو خوش گوار بنا دیا۔
٭٭

اہلِ ایران میں ہماری سب سے زیادہ رسم و راہ ٹیکسی ڈرائیوروں سے رہی۔ پروگرام کا تقاضا بھی یہی تھا کہ صبح وشام ہمیں ان حضرات سے واسطہ پڑے۔ تہران کے طویل راستے ، جن پر ہر طرف کاروں کی لامتناہی قطاریں نظر آتی ہیں، ٹریفک کی سرخ روشنیوں سے طویل تر ہو جاتے۔ اس کے علاوہ بھی ذرا سی بدنظمی سے ٹریفک رک جاتا اور ٹیکسی ڈرائیور بڑبڑاتے : "اُہ شلوغ!” لیکن گاڑی کا انجن بند نہ کرتے اس لیے کہ پٹرول پچھتر پیسے فی لیٹر تھا۔ غالباً شلوغ ہی کی وجہ سے ٹیکسی کا کرایہ فاصلے کے حساب سے نہیں بلکہ وقت کے حساب سے طے ہوتا ہے __ فی گھنٹا یا اس کا جُز پچیس سے پینیتس تومان تک (ایک تومان برابر سوا روپیا) ۔ اسی شلوغ کی وجہ سے تہران میں مختصر فاصلے ٹیکسی کی بہ نسبت پیادہ پا جلدی طے کر لیتے ہیں۔ بعض احباب نے کہیں پیدل روانہ ہوتے وقت سامنے جاتی ہوئی کسی ٹیکسی کا نمبر یاد کر لیا اور واقعی دو ڈھائی کیلومیٹر چلنے کے بعد انھیں وہ ٹیکسی اپنے پیچھے آتی دکھائی دی۔ غرض ان حالات میں ٹیکسی ڈرائیور کی صحبت سے فیض اٹھائے بغیر چارہ نہ تھا۔ ان میں زیادہ تر نوجوان اور تعلیم یافتہ تھے۔ بعض ایسے تھے جو دن کو کالجوں میں پڑھتے اور شام کو ٹیکسی چلاتے تھے تاکہ روپیا جمع کر کے کسی مغربی ملک میں تعلیم حاصل کر سکیں۔ ان میں سے قریب قریب ہر ایک کے ساتھ ہمارا ابتدائی مکالمہ یکساں رہتا تھا۔ ہم اس کا نام پوچھتے ، وہ بتاتا، پھر ہمارے نام پوچھتا، ہم اپنے نام بتاتے جن کے ساتھ اکابر اسلام میں سے کسی نہ کسی کا نام بھی شامل ہوتا: سید فلاں علی، محمد فلاں، فلاں حسین۔ پھر وہ پوچھتا:
"آپ کا مذہب کیا ہے ؟”
"ہم مسلمان ہیں۔”
"آپ لوگ اپنے مردوں کو جلاتے ہیں؟”
"نہیں آقائے رانِندہ ، ہم اپنے مُردوں کو نمازِ جنازہ کے بعد دفن کرتے ہیں۔”
"خیلے خوب۔ اور آپ گائے کو بھی پوجتے ہیں؟”
"نہیں۔ ہم نماز پڑھتے ہیں، روزے رکھتے ہیں، قرآنِ کریم کی تلاوت…”
"…تو آپ گائے کھاتے ہیں؟”
"نہیں، کھاتے بھی نہیں ہیں۔”
اور یہ کہتے ہی ہم آقائے رانندہ کی نگاہ میں معتبر ہو جاتے ہیں۔ تاہم کچھ دیر بعد کسی نہ کسی طرح اسے ماننا پڑتا کہ ہم مسلمان ہیں۔ اب وہ ایک اور ناگزیر سوال پوچھتا،
"آغا شیعہ اید یا سنّی؟”
"ہم میں سے دو شیعہ ہیں، دو سنی۔”
"فرقے نہ دارو۔ ہر مذہب برابر است۔ عیٰسی بہ دینِ خود موسٰی بہ دینِ خود…” وغیرہ وغیرہ اور مذہبی رواداری پر ایک مختصر سی تقریر۔
ایک دن کاخِ گلستان (میوزیم) کی سیر کے بعد کچھ وقت بچ گیا۔ رہنما صاحب نے ہم لوگوں کو سبزہ میدان کے بازار بزرگ میں پہنچا دیا۔ وہاں سے نکلے تو وہ ٹیکسی جس پر میں اور تین ساتھی آئے تھے ، غائب تھی۔ ناچار ایک اور ٹیکسی کو روک کر ڈرائیور سے بتایا کہ ہوٹل رودکی چلنا ہے۔ اس نے کہا:
"پون صد ریال۔”؂۱
اور ٹیکسی کے دروازے کھول دیے۔ راستے بھر وہ بہت دلچسپ گفتگو کرتا آیا۔ بابا طاہر عریاں، ابوسعید ابی الخیر وغیرہ کی کوئی پچاس رباعیاں فرفر سنانے کے بعد، جو زیادہ تر مدحِ پنجتن میں تھیں، کہنے لگا، "اب آپ کچھ سنایئے۔” ایک ساتھی نے غالب کا یہ شعر پڑھا:

اگر بہ دل نہ خلد آں چہ در نظر گزرد
زہے روانیِ عمرے کہ در سفر گزرد

ڈرائیور بت بنا بیٹھا رہا۔ اس سے پوچھا گیا:
"یہ شعر تمہاری سمجھ میں آیا؟”
اس نے اثبات میں سر ہلا دیا۔ پوچھا کیسا شعر ہے ، تو بولا میری سمجھ میں نہیں آیا۔ ہم نے پوچھا:
"کچھ تو سمجھ میں آیا؟”
اس نے پھر اثبات میں سر ہلایا اور کہا:
"ہیچ نہ فہمیدم۔” (میری سمجھ میں قطعاً نہیں آیا۔)
یہ معاملہ ہماری سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ وہ زبان سے تو انکار کر رہا ہے اور سر کی جنبش سے اقرار کی ادا نکل رہی ہے۔ لیکن اسی وقت مجھے یاد آ گیا کہ یہاں نفی کے لیے سر کو اثباتی جنبش دی جاتی ہے اور اس ڈرائیور کے یہاں بھی اثبات سے نفی تراوش کر رہی ہے۔
اسی ڈرائیور نے اپنے پسندیدہ شاعروں کے نام بتاتے ہوئے ایرج کا بھی نام لیا۔ میں نے پوچھا: "ایرج میرزا؟”
وہ بولا، "نہ نہ ایرج میرزا کہ پوچ است۔”
اس سے میرے اس خیال کی تصدیق ہوئی کہ اس صدی کے اوائل کے وہ ایرانی شاعر جن کے انقلابی کلام نے ایرانی عوام میں سیاسی بیداری اور آزادی خواہی کی لہر دوڑا دی تھی، اور ہماری بیش تر یونیورسٹیوں کے نصاب میں جدید فارسی شاعری ان سے شروع ہو کر انھیں پر ختم ہو جاتی ہے ، اب ایران میں زیادہ مقبول نہیں ہیں اس لیے کہ ان کی شاعری کی اساس جن ہنگامی موضوعات پر تھی اب وہ تقریباً ختم ہو چکے ہیں۔
ہوٹل پہنچ کر ٹیکسی کا کرایہ ادا کرنے سے پہلے ہوٹل والوں سے رجوع کیا گیا کہ پچاس تومان کرایہ زیادہ تو نہیں ہے۔ انھوں نے ٹیکسی ڈرائیور کو بہت ڈانٹا اور وہ پچیس تومان لے کر ابو سعید ابی الخیر کی رباعی گنگناتا ہوا چلا گیا۔

تہران میں ٹیکسی ڈرائیوروں کی ایک قسم اور بھی ہے جس میں یونیورسٹی کے پروفیسر، سرکاری افسر اور لکھ پتی تاجر وغیرہ سب ہی آ جاتے ہیں۔ آپ کو قریب قریب ہر سڑک کے کنارے کچھ لوگ کھڑے نظر آئیں گے جو سامنے سے گزرتی ہوئی ہر کار کی کھڑکی کے پاس منھ لے جا کر زور سے پکاریں گے :
"حافظ”
"فردوسی”
"شاہ رضا”
"مولوی”
کچھ کاریں ان آوازوں سے متاثر ہوئے بغیر آگے بڑھ جائیں گی، لیکن کوئی کار کسی نام پر رک بھی جائے گی۔ اس کا دروازہ کھل جائے گا اور پکارنے والا اس میں بیٹھ جائے گا۔ اگر آپ کو نہیں معلوم کہ خیابانِ حافظ، خیابانِ فردوسی وغیرہ تہران کی سڑکوں کے نام ہیں تو ظاہر ہے آپ چکرا کر رہ جائیں گے۔ لیکن پکارنے والا اطمینان سے کار میں بیٹھ کر اپنے مطلوبہ خیابان پر اتر جائے گا اور کار کے مالک کے ہاتھ میں دو تین تو مان کی رقم رکھ کر "متشکرم” کہتا ہوا چل دے گا۔ اس طرح نجی کاروں کے مالک سواریاں بٹھا بٹھا کر پٹرول کا خرچ تو نکال ہی لیتے ہیں۔ بعض حضرات خالی اوقات میں محض اسی غرض سے خیابان نوردی کر کر کے کار کی قیمت کی قسطیں بھی ادا کر دیتے ہیں۔ قانوناً اس طرح نجی کاروں کا کرایے پر چلانا ممنوع ہے لیکن حکومت اس سے چشم پوشی کرتی ہے اس لیے کہ تہران میں ٹیکسیاں اور بسیں ناکافی ہیں۔

٭٭
۱۔ ایران کا اصلی سکہ ریال ہے۔ تومان کوئی سکہ نہیں ہے بلکہ دس ریال کے مجموعے کا نام تومان رکھ دیا گیا ہے۔

پہلی فروری (۱۹۷۷ء) سے باشگاہ بانک سپاہ میں فارسی زبان و ادبیات کے اساتذہ کا سیمینار شروع ہوا۔ ابتدا میں ڈاکٹر عبدالحسین زرّین کوب نے مقالہ پڑھا۔ ڈاکٹر زرینکوب ایران کے اکابرِ ادب میں شمار ہوتے ہیں اور ان کی کتاب "نقدِ ادبی” فارسی میں تنقید کا شاہکار سمجھی جاتی ہے اس لیے کہ اس میں مغربی نقادوں کے حوالے بہت ہیں۔ زرینکوب کے پیروں میں کچھ تکلیف تھی جس کی وجہ سے وہ عصا کے سہارے چلتے ہوئے ڈائس پر آئے تھے۔ لیکن مقالے کے شروع سے انھوں نے رستم وسہراب کا تلازمہ باندھا، خود کو رستم اور طالب علم کو سہراب ٹھہرایا اور پُر درد لحن میں گویا ہوئے کہ دو تین نسل پیش تر کا استاد طالب علموں کے سامنے اشعارِ فرّخی و خاقانی اور کتاب راحت الصدور اور جہانگشائے جوینی وغیرہ کے مشکل الفاظ کے معنی بتا کر متن کی تشریح کر دیتا تھا اور طالب علم مطمئن ہو جاتا تھا۔ اب استاد یہ کرتا ہے تو طالب علم درجے سے باہر نکل کر سنیما یا تھیئٹر کا راستہ لیتا ہے یا غیرملکی ناولوں میں کھو جاتا ہے۔ ادبیات الگ چیز ہے اور درسِ ادبیات الگ چیز۔ آج طالب علم درس ادبیات کو "چیزے بے فائدہ” سمجھتا ہے۔ پرانی اور نئی نسل کے درمیان جو فرق رونما ہو گیا ہے اس کو سمجھنا ضروری ہے۔ تورگنیف کے ناول "باپ بیٹے ” میں… وغیرہ۔ "مسئلۂ ما در حالِ حاضر عبارت است از برخوردِ رستم با سہراب۔” ہم ناخواستہ اپنے سہرابوں کو قتل کر رہے ہیں۔ ہمارا علم و ادب ہمارے سہرابوں سے منقطع ہو چکا ہے۔ "این یک مسئلۂ حساس است۔” پرانا ادب ہمارے سہرابوں کے ذہنی تجسس کو پورا نہیں کرتا۔ اگر ہم نے نئے اور پرانے کے درمیان پل نہ بنایا تو ہم الگ الگ ہو جائیں گے اور ہمارے سہراب ہم سے چھن جائیں گے … نئی نسل ایران اور علومِ ایران اور اس کے کلچر سے ارتباط محسوس نہیں کرتی… یہ تصور نہیں کرنا چاہیے کہ سعدی کا کلام پڑھانا "دونِ شانِ استاد” ہے … وغیرہ وغیرہ۔ زرینکوب کبھی مقالہ پڑھتے ، کبھی تقریر کرنے لگتے۔ ان کا لب ولہجہ بہت دلکش تھا۔ وہ بول رہے تھے اور ان کا مسئلۂ حساس میرے تصور میں مجسم ہو رہا تھا کہ رستم آنکھوں پر عینک چڑھائے ، پرانے دیوان بغل میں دبائے سہراب کی راہ دیکھ رہا ہے اور سہراب اولمپیا پریس کی کتاب سینے سے لگائے تالارِ رودکی کی رقاصہ کو دیکھ کر سر دھُن رہا ہے۔ اتنے میں ڈاکٹر زرینکوب نے آج کے نقاد اور محقق کا شکوہ شروع کر دیا۔ انھوں نے نقاد کو اس کا فرض یاد دلایا کہ ادب کو ہمیشہ اس کے ماحول کے حوالے سے سمجھنا چاہیے ، اور یہ بھی فریاد کی کہ آج کا نقاد یا محقق قلم اٹھاتا ہے اور جلال الدین رومی اور شمس تبریز کے روابط کو homosexuality کی روشنی میں دیکھنے لگتا ہے۔ مجھے خیال آیا کہ کہیں نقاد یا محقق کی یہ ناشائستہ حرکت ادب کو اس کے ماحول کے حوالے سے سمجھنے کی کوشش ہی کا نتیجہ نہ ہو، اس لیے کہ پیرِ رومی اور عارفِ تبریزی کے زمانے کا ماحول homosexuality کے لحاظ سے خاصا روشن تھا۔
آخر میں ڈاکٹر زرینکوب نے اپنے پیش کیے ہوئے مسئلوں کے کچھ حل بھی بتائے جن کا لبِ لباب یہ تھا کہ "طرزِ ادبیاتِ کہن” ہمارے نوجوانوں کے کسی کام کا نہیں، لہذا ضروری ہے کہ اس پرانے ادب کو نوجوانوں کے لیے دلچسپ اور "شور انگیز” بنایا جائے۔
مقالے پر بحث بھی ہوئی جس کا معیار کم و بیش وہی تھا جو خود مقالے کا تھا، البتہ ایک نے زرینکوب پر اعتراض کیا کہ انھوں نے فرّخی کو متملّق اور چاپلوس کہا، تنقید شاعر پر نہیں اس کی شاعری پر ہونا چاہیے۔ لیکن میرے پیروں تلے کی زمین اس وقت نکلی جب اس تجویز کا خیرمقدم کیا گیا کہ تاریخِ وصّاف اور اسی قبیل کی دوسری مشکل رنگین تحریروں کو آسان زبان اور سادہ اسلوب میں لکھ کر نصاب میں داخل کیا جائے۔
سیمینار میں اور بھی مقالے پڑھے گئے لیکن بہترین مقالہ ڈاکٹر زرینکوب ہی کا تھا۔ آخری اجلاس کے آخر میں ایک شعری نشست بھی ہوئی۔ معلوم ہوا کہ قریب قریب سب حضرات شاعر ہیں۔ یہ نشست اردو کی اُن شعری نشستوں سے مختلف نہیں تھی جن پر ہمارے یہاں کے ہر ادبی اجتماع کی تان ٹوٹتی ہے ، البتہ اس میں ایک فاضل ادا کوی سمّیلنوں والی بھی تھی، یعنی ہر شاعر اپنا کلام پیش کرنے سے پہلے نثر میں نہایت غیر دلچسپ اور غیر ضروری تمہید اٹھاتا تھا۔ بہرحال اس شعری نشست نے سیمینار کی فضا بدل دی اور سارے رستم اپنے سہرابوں سے بے گانہ ہو گئے۔
٭٭

لیکن سہراب اپنے قدیم ادب اور تہذیب سے بے گانہ نہیں ہے۔ اسے دراصل اپنے رستم سے شکایت ہے۔ اس وقت ایران تیل کی گنگا میں نہا رہا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کی رو سے یہ تیل ابھی کوئی تیس سال تک چلے گا، سہراب کے تخمینے کے مطابق یہ ذخیرہ دس بارہ سال سے زیادہ چلنے والا نہیں ہے۔ صنعتی اور زراعتی دونوں حیثیتوں سے ایران اس وقت بھی مغربی ممالک کا دست نگر ہے۔ (ایران غیر ممالک سے ساڑھے بارہ کروڑ روز کی صرف اشیائے خوردنی درآمد کرتا ہے۔) ایرانی نوجوان کا کہنا یہ ہے کہ کل جب تیل کی دولت ختم ہو جائے گی تو ہمارا کیا ہو گا؟ اسے اپنے بزرگوں سے یہی شکایت ہے کہ آپ تو عیش کر جائیں گے لیکن آپ کے عیش کی قیمت ہمیں اور ہماری اولاد کو چکانا ہو گی۔ وہ ڈرتا ہے کہ اسے بھی قائم چاندپوری کی طرح کہنا پڑے گا:

عوض طرب کے گزشتوں کی ہم نے غم کھینچا
شراب اوروں نے پی اور خمار ہم کھینچا

کسی کی سمجھ میں نہیں آ رہا ہے کہ موجودہ عیش کی آئندہ قیمت کیوں کر چکائی جائے گی۔ اس لیے ایرانی نوجوانوں خصوصاً طالب علموں کا ایک طبقہ ہمہ وقت بغاوت پر آمادہ رہتا ہے۔ تہران یونیورسٹی پولیس کے گھیرے میں رہتی ہے۔ طالب علموں نے اپنا ایک انقلابی ترانہ بنا رکھا ہے۔ گاہ بے گاہ یونیورسٹی اور اس کے ہوسٹل میں یہ ترانہ گونجنے لگتا ہے :
"برخیز برخیز اے ہم نشین…”
دم بھر کے بعد پولیس ہوسٹل میں داخل ہو جاتی ہے اور طالب علم اپنے اپنے کمروں میں گھس جاتے ہیں، کسی کونے میں پڑی ہوئی شاہ ایران کی تصویر کو دیوار پر نمایاں جگہ ٹانگ دیتے ہیں اور بڑی متانت کے ساتھ پڑھنے بیٹھ جاتے ہیں۔ کچھ پکڑے جاتے ہیں اور طرح طرح کی اذیتوں میں مبتلا ہوتے ہیں۔ انھیں میں سے کچھ "تروریست”(terrorist) ہیں جو شاہ کی تاک میں لگے رہتے ہیں اور آئے دن گولیوں کا نشانہ بنتے ہیں۔ ان میں سے کچھ کے لیے یہ ننگ ناقابل برداشت ہے کہ اس زمانے میں بھی وہ ایک بادشاہ کی رعیّت ہیں۔ کچھ کو ایران میں امریکا کا بڑھتا ہوا اقتدار ناپسند ہے۔ انھیں محسوس ہو رہا ہے کہ امریکی اثرات ان کی عجمی روح کو مجروح کر رہے ہیں۔ وہ ان اثرات کا کھل کر مقابلہ نہیں کر سکتے۔ وہ کھل کر کچھ بھی نہیں کر سکتے۔ امریکا ہی کے اثر سے ان کی زبان پر انگریزی کو برتری حاصل ہو گئی ہے۔ یہ بات مجھ سے بہت لوگوں نے کہی کہ ایرانیوں کو مرعوب کرنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ ان کے سامنے انگریزی بولنا شروع کر دیجیے۔ ایرانی نوجوان بھی انگریزی سیکھنے پر مجبور ہے اور اس وقت ایران میں سب سے زیادہ سینہ تان کر چلنے والے امریکی ہیں۔ میں نے دو موقعوں پر ان کا ذکر سنا اور دونوں موقعوں پر انھیں "امریکائی” کے بجائے "پدر سوختہ” کے نام سے یاد کیا گیا۔ ایک موقعے پر ہوٹل رودکی میں ہمارے سامنے چائے آئی۔ چائے کے لفافوں پر "لپٹن” لکھا ہوا تھا۔ ہمارے ایک ساتھی نے کہا کہ یہ ہندوستان کی چائے ہے۔ چائے لانے والے ویٹر نے جھک کر سامنے بیٹھے ہوئے ایک امریکی جوڑے کی طرف اشارہ کیا اور چپکے سے بولا:
"نہ خیر، این مالِ آن پدرسوختہ ہا است۔”
ایک اور موقعے پر امریکیوں کے بارے میں کہا گیا کہ یہ پدر سوختہ سکون کی تلاش میں ایران آتے ہیں اور یہاں آ کر دکان رکھ لیتے ہیں۔
٭٭

ایک دن بازار میں ہم لوگ اشیا کی قیمت دریافت کرتے وقت کتابی فارسی اور دست و ابرو کی علامتی زبان میں دادِ فصاحت و بلاغت دیتے ہوئے ایجاز و اطناب کی مثالیں پیش کر رہے تھے :
"چند؟” (ابرو اوپر، پھر نیچے۔)
"آقای فروشندہ، این قاشق ہا…” (انگلی سے افقی اشارہ) "قیمتِ یک عدد…” (انگلی سے عمودی اشارہ) "چہ قدر است؟…” (ہاتھ کی سوالیہ گردش)۔ وغیرہ۔
اتنے میں ایک شیریں آواز سنائی دی:
"آؤغا، اوناں یہ دونی چند اے ؟”
اور آقائے فروشندہ گویا ہوئے :
"بِس پن زارے۔”
دراصل جدید فارسی زبان سے زیادہ فارسی کا جدید ایرانی تلفظ ہندوستانیوں کو پریشان کرتا ہے۔ ک کی جگہ چ، ق کی جگہ غ، الف نون کی جگہ واو نون بلکہ خالی نون، واؤ مجہول اور یائے مجہول کی جگہ واؤ معروف اور یائے معروف کی شدتِ استعمال سے مانوس الفاظ بھی نامانوس معلوم ہونے لگتے ہیں۔ پریشان اور سامان کی جگہ پریشون اور سامون، بلکہ پریشُن اور سامُن وغیرہ جدید تلفظ ہیں جو غالباً تہران کی مرکزیت کی وجہ سے زیادہ رائج ہو گئے ہیں۔ اصفہان اور شیراز فارسی زبان کے پرانے مرکز ہیں لیکن استناد تہران کی زبان کو حاصل ہو گیا ہے ، اسی لیے کسی نے جل کر کہا ہے :

"زبانِ” مردم تہران "زبون” است

پھر مقامی لہجوں میں مانوس اور بھی غیر مانوس ہو جاتا ہے۔ است کی جگہ اے ، یک اور شود کی جگہ یہ اور شہ اور را کے محل پر آواز اتنی خاموشی سے در آتی ہے کہ محض کتابی فارسی سے آشنا آدمی چکرا کر رہ جاتا ہے۔
ایران کے سب سے بڑے افسانہ نگاہ صادق ہدایت نے فرانسیسی زبان میں ایک افسانہ Lunatique لکھا ہے جس کا محلِ وقوع بمبئی ہے۔ اس افسانے میں ہدایت نے اردو کے بھی کچھ مکالمے لکھے ہیں جو افسانے کے فارسی ترجمے ("ہوسباز”) میں اس طرح دیے گئے ہیں:
"طبیعت تیک ہی؟” (طبیعت ٹھیک ہے۔)
"صاحب سلام، پارماتما تامارا بالا کرہ۔ بال بچہ سوکیراکہ۔” (صاحب سلام، پرماتما تمھارا بھلا کرے ، بال بچے سکھی رکھے۔)
"باگوان مر گیا، باگوان مر گیا۔” (بھگوان مر گیا، بھگوان مر گیا۔)

بنیادِ فرہنگِ ایران کے دفتر میں آقائے رجائی سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے سیمینار میں بہت پر مزاح تقریر کی تھی۔ ان سے اردو کے متعلق گفتگو ہوئی تو معلوم ہوا کہ وہ تھوڑی بہت اردو جانتے ہیں۔ انھوں نے اردو کے کچھ شعر بھی سنائے جن میں دو شعر ان کو بہت پسند تھے۔ دونوں شعر انھیں کے تلفظ میں حاضر ہیں:

بویِ گل، نالہ یِ دل، دودِ چراغِ محفل
جو تری بزم سی نِچلا سو پریشُن نِچلا
چند تصویرِ بتُن، چند حسیننُن چی خطوط
بعد مرنی چی مری گر سی یہ سامُن نِچلا

لیکن رجائی کی زبان سے ان شعروں کو سن کر یہ نہیں معلوم ہوتا تھا کہ غالب کے شعروں کو مسخ کر کے پڑھا جا رہا ہے ، بلکہ ان میں کچھ اور زیادہ لطافت محسوس ہونے لگی۔
٭٭

ایرانیوں کی خوش گفتاری، شائستگی اور نفاستِ ذوق کا اندازہ کسی بھی ایرانی سے مل کر ہو جاتا ہے۔ اہلِ کشمیر کے لیے اقبال کا مصرع:

آہ یہ قومِ نجیب و چرب دست و ترزبان

یہاں بھی یاد آتا ہے (آہ سمیت)۔
پرانے لکھنؤ کی پُرتکلف تہذیب یہاں اب تک اسی آب و تاب سے جلوہ فرما ہے۔ عہدِ شاہی کے لکھنؤ پر عجمی اثرات کا سراغ زیادہ تر رسوم و رواج، مکانوں کے طرزِ تعمیر وغیرہ کے ذریعے لیا جاتا رہا ہے۔ لیکن ایران آ کر محسوس ہوتا ہے کہ عجمی اثرات لکھنؤ کے آدابِ محفل اور رسمی ضابطۂ اخلاق پر سب سے زیادہ پڑے ہیں۔
سعید نجفی مجھے ایرانی حسنِ اخلاق کی مجسم علامت نظر آئے۔ وہ عرصے تک ہندوستان میں رہنے کی وجہ سے اردو اچھی طرح جانتے ہیں اور خود بھی اردو میں افسانے لکھتے ہیں۔ طباطبائی اور علی محمد نقوی صاحب کے قریبی دوست ہیں۔ میرے آنے کی خبر ملتے ہی دفتر سے سیدھے ہوٹل پہنچے۔ اس کے بعد سے ان تینوں دوستوں نے مجھے اپنی تحویل میں لے لیا۔ رودکی کے انگریزی کھانوں سے بھی سابقہ کم ہو گیا اس لیے کہ دونوں وقت ان میں سے کسی نہ کسی کی طرف سے دعوت رہتی تھی جس میں ایرانی کھانے اپنے صحیح ذائقے کے ساتھ ملتے تھے۔ (اگرچہ رودکی میں بھی ہم لوگوں کی خاطر کبھی کبھی مینو بدل جاتا تھا اور کبھی چلو کباب، کبھی پاکستانی تندوری مرغ، کبھی کباب ہندی کا خصوصی انتظام کیا جاتا تھا۔)
سعید نجفی نے اپنی کار ہم لوگوں کے لیے وقف کر دی تھی۔ اگر کسی وجہ سے کار دستیاب نہ ہوتی تو ٹیکسی کا بندوبست اپنا ہی فریضہ سمجھتے تھے۔ انھیں کے زیرِ اہتمام تہران کے قریب کی تین مشہور زیارت گاہوں (روضۂ شاہ عبد العظیم، امام زادۂ صالح اور معصومۂ قم) میں حاضری کا موقع ملا۔ شاہ عبدالعظیم کی زیارت کو جاتے ہوئے چہار راہِ سیروس اور چہار راہِ مولوی کے درمیان ایک مجہول سی جگہ پر نجفی نے ٹیکسی رکوا دی۔ ہم لوگ اتر کر ایک دکان نما چھوٹی عمارت میں داخل ہوئے جو بہ ظاہر خالی تھی۔ داہنی طرف نظر کی تو فرش کے نیچے اترتے ہوئے زینے دکھائی دیے۔ میں نے پوچھا:
"نجفی صاحب، یہ کون سی جگہ ہے ؟”
انھوں نے جواب دیا:
"میوزیم۔”
میں نے دل میں کہا: نجفی صاحب، کم از کم آپ سے تو یہ امید نہ تھی۔ اتنے میں وہ بولے :
"یہاں کھانا کھا لیا جائے ، پھر آگے چلیں۔”
چند زینے اترتے ہی دنیا بدلتی نظر آئی۔ قد آدم سماوروں کے پاس سے دو ڈھائی فٹ قد کا ایک پیرِ ریش دار سینی میں آگ لیے برآمد ہوا اور جھک کر آداب بجا لایا۔ پھر اس نے آگ پر سپند کے دانے ڈال کر نظرِ بد اتاری۔ نجفی نے اسے انعام دیا اور ہم کچھ زینے اور نیچے اترے۔ اچانک محسوس ہوا کہ بائیں طرف جہنم کا دہانہ کھلا ہوا ہے۔ بغور دیکھا تو معلوم ہوا قدیم تنّور ہے جس میں اتنی بڑی بڑی روٹیاں لگ رہی ہیں کہ ان سے رضائی کا کام بہ خوبی لیا جا سکتا ہے۔ آخر زینے ختم ہوئے اور ہم لوگ "موزہ مہمانسرایِ آب انبار” میں پہنچ گئے۔ اطراف پر نظر دوڑائی تو محسوس ہوا ابھی ابھی ویلز کی ٹائم مشین سے اتر کر دورۂ قاجاریہ کے کسی ساختمان میں داخل ہوئے ہیں۔ ہر طرف مسندیں، تکیے ، قدیم وضع کے دیوان، میزیں، گدّے ، کاشی کاری کے برتن، روشنی کے لیے تیل کے لیمپ، پوری عمارت میں دیواروں سے چھتوں تک مرقعے ، اسلحہ، مورتیاں، ایک طرف پرانا عزا خانہ۔ ایک طرف قدیم ایرانی لباس میں اونچی کامدار ٹوپی پہنے ایک فال گو صاحب قسمتوں کے فیصلے کر رہے ہیں۔ طرح طرح کے حقوں سے دھوئیں اڑ رہے ہیں۔ ایک بڑے سے طاق میں گدوں کے درمیان لمبی نَے والا پیچوان سلگ رہا ہے۔ نَے کی مُہنال سے ایک مردِبزرگ جڑے ہوئے ہیں۔ معلوم ہوا کہ اس چراغاں کے کارفرما آپ ہی ہیں۔
یہ دراصل پرانے زمانے کے ایک زیرِ زمین آبی ذخیرے (آب انبار) کی عمارت ہے جسے حاج حسن آقا جانی گلاب گیر نے اپنے جمع کیے نوادر سے سجا کر ریستراں اور میوزیم بنا دیا ہے۔ اوپر تہرانِ نو کی سڑکوں پر موٹروں کی دوڑ جاری تھی اور نیچے ہم لوگ مرغ پلاو، باقلا پلاو، جوجہ کباب وغیرہ سے شوق فرما رہے تھے۔ تہران کے جتنے سرکاری میوزیم دیکھے ان سب سے بہتر یہ مہمان سرائے تھی۔ بے شک یہ ہمارے سفر ایران کی دلچسپ ترین سیر تھی۔
زیارت سے واپس ہو کر علی محمد صاحب استاد علامہ یحییٰ نوری کے یہاں لے گئے جو ایران کے جیّد علما میں ہیں۔ ان سے گفتگو کر کے اندازہ ہوا کہ ایک روشن فکر اور صاحبِ نظر عالمِ دین کو کیسا ہونا چاہیے۔ استاد نوری کی عمر زیادہ نہیں ہے لیکن ان کی معلوماتِ عامّہ اور مختلف النوع مسائل میں اجتہادی فیصلے دینے کی قوت حیرت انگیز ہے۔ انھوں نے پُرتکلف چائے سے تواضع کی۔
دوسرے دن علی محمد صاحب کے ساتھ مدرسۂ چہل ستون جانے کا موقع ملا۔ یہاں کے مطبوعات مجھے موصول ہوتے رہتے تھے جن سے اندازہ ہوتا تھا کہ یہ خاصا فعال تبلیغی ادارہ ہے۔ حاجی حسن سعید اس ادارے کی کتابیں دنیا بھر میں بھیجتے رہتے ہیں اور خود بھی کئی کتابیں لکھ چکے ہیں جن میں "ہمہ در انتظارِ اویند” (سب اس کے منتظر ہیں) "در ظہورِ مہدی آخرالزماں” قابلِ ذکر ہے۔ انھوں نے اس تپاک سے خیرمقدم کیا گویا میرا ہی انتظار کر رہے تھے۔ حسن سعید بھاری بدن کے بوڑھے مگر عجیب سیماب وش برق صفت انسان ہیں۔ ہر آنے والے کا استقبال اس پھرتی سے کھڑے ہو کر کرتے ہیں کہ حیرت ہو جاتی ہے۔ مجھے دیکھتے ہی پوچھا:
"انگلیسی ہم بلد ہستید ماشاء الله؟” اور فرمائش کی کہ میں ان کے یہاں کی کتابوں کا انگریزی میں ترجمہ کروں۔ میں نے عرض کیا کہ انگریزی میں میری استعداد ایسی نہیں کہ اسے ترجمے کے لیے استعمال کر سکوں، البتہ اردو میں ترجمہ کرنا میرے لیے مقابلتاً آسان ہو گا۔ فوراً "عیبی ندارد” کہہ کر اردو ترجموں کی فرمائش کر دی۔ اپنے یہاں کی کتابیں ان کا بس نہیں تھا کہ سب کی سب مجھے دے دیں۔ انھوں نے مکمل "نہج البلاغہ” کا انگریزی ترجمہ بھی شائع کیا ہے جس کے آٹھ ایڈیشن نکل چکے ہیں۔ اس کی ایک جلد مجھے عنایت کی اور پورا بنڈل سامنے رکھ دیا کہ اپنے دوستوں کے لیے جتنی جلدیں چاہوں لے لوں۔ کھانا کھلانے پر بہت مصر ہوئے۔ ہم لوگوں نے بہ دقّت معذرت کی اور رخصت ہوئے۔
٭٭

"یا قائمِ آلِ محمد! دنیا در انتظارِ تست۔”
تہران میں شاید ہی کوئی علاقہ ہو جہاں آپ کو آس پاس کہیں نہ کہیں یہ عبارت لکھی ہوئی نظر نہ آئے۔ انتظار ایرانی قوم کا خاصہ ہے۔ اسلام قبول کرنے کے بعد ظہورِ مہدی کا عقیدہ ایرانی طبائع کے عین مطابق تھا، اور آخری نجات دہندہ کا انتظار اُس وقت سے آج تک برابر ہے ، البتہ اس انتظار کی شدت میں حالات کے لحاظ سے کمی بیشی ہوتی رہتی ہے۔ اس کمی بیشی کے لحاظ سے ایران میں "روحانیّوں” (علمائے دین) کی طاقت گھٹتی بڑھتی رہتی ہے۔ آج کل مہدیِ موعود کا انتظار بڑی شدت کے ساتھ ہو رہا ہے چناں چہ علما کی مرجعیت بھی بڑھ گئی ہے ، اور ایران کے مذہبی حلقوں اور شاہ کے تعلقات کشیدہ ہیں۔ ایک نیا حلقہ "مارکسیتِ اسلامی” بھی اُبھرا ہے جو بیک وقت اسلام اور مارکسزم سے متاثر ہے۔ دونوں حلقوں کے علما معتوب اور سزا یاب ہوتے رہتے ہیں۔ ان حلقوں میں مجھ سے چند سوال خاص طور پر پوچھے گئے : کیا "خانم ایندرا گاندی” ہندوستان میں واقعی بہت مقبول ہیں؟ کیا لوگ ان کی نافذ کی ہوئی ایمرجنسی سے مطمئن ہیں؟ آپ کے یہاں آزادیِ اظہار کس حد تک سلب ہوئی ہے اور اس سلسلے میں لوگوں کا رد عمل کیا ہے ؟ کیا "تنظیمِ خانوادہ” کے پروگرام پر لوگ خوشی سے عامل ہیں؟ آزادیِ اظہار کے سلسلے میں جب میں نے کہا کہ اب لوگ آپس میں بھی کھل کر گفتگو کرتے ڈرتے ہیں تو ایک صاحب نے زیرِ لب کہا:
"راست مثلِ ما۔” بالکل ہماری طرح۔
امام رضا علیہ السلام کے ساتھ شاہ کی والہانہ عقیدت کے قصے بھی مشہور ہیں، مثلاً یہ کہ جب شاہ مشہد مقدس میں حاضری دیتے ہیں (اس وقت روضے سے دوسرے لوگ ہٹا دیے جاتے ہیں) تو ان کے رونے کی آواز دور دور تک جاتی ہے ، اور یہ کہ شاہ نے خود کو روضۂ اقدس کے کفش برداروں میں رکھا ہے اور اس حیثیت سے وہ باقاعدہ تنخواہ پاتے ہیں اور اسی تنخواہ سے ان کا ذاتی کھانا پکتا ہے۔ اپنی سوانح عمری میں بھی شاہ نے مختلف موقعوں پر حضرت علی، حضرتِ عباس اور امام آخرالزماں کی زیارت سے مشرف ہونے کا ذکر کیا ہے اور اپنی کامیابیوں کو انھیں برگزیدہ ہستیوں کا فیض قرار دیا ہے۔ لیکن ایک حلقے کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ اظہارِ عقیدت زیادہ تر ایرانی عوام کا دل ہاتھ میں رکھنے کے لیے ہڈے ورنہ دراصل شاہ کو اسلام سے کوئی خاص دل چسپی نہیں، وہ اپنے آس پاس عیسائیوں، یہودیوں اور بابیوں کو جمع رکھتے ہیں اور مسلمانوں سے زیادہ ان پر بھروسا کرتے ہیں۔
٭٭

"آغا، کلیاتِ مولانا اقبال لاہوری دارید؟”
"نہ خیر۔”
تہران یونیورسٹی کے سامنے کتابوں کے زبردست بازار کی ساتویں آٹھویں دکان پر اس سوال جواب کے بعد میں مایوس ہو چلا تھا۔ تہران سے اقبال کا فارسی کلیات بڑے سائز پر بہت خوب صورت شائع ہوا ہے اور اس کے آٹھ دس ایڈیشن نکل چکے ہیں۔ ایران کے دورے کا پروگرام بنتے ہی میں نے طے کر لیا تھا کہ اس کا ایک نسخہ ضرور خریدوں گا، لیکن اب اس کا سراغ نہیں مل رہا تھا۔ اس ساتویں یا آٹھویں دکان کے نوجوان مالک سے "نہ خیر” سننے کے بعد آگے بڑھنے سے پہلے میں نے پوچھ لیا کہ کیا دو چار روز میں اس کی فراہمی کی امید ہو سکتی ہے ؟ اس نے انکار میں سر کو اثباتی جنبش دیتے ہوئے کہا:
"اون کتاب کہ جمع شد۔”
یہ جمع ہونا میری سمجھ میں نہیں آیا اور میں نے پوچھا، "کہاں جمع ہو گئی؟” وہ بولا:
"دولت جمع کرو۔”
"دولت چرا جمع کرد؟”
"انغلابی بود… ضدِ شاہی…”
مجھے ایک کتاب "پرندگانِ ایران ” کی بھی تلاش تھی اور ابھی تک دیکھی ہوئی دکانوں پر وہ بھی عنقا تھی۔ اگلی دکان پر دیکھا کہ "پرندگانِ ایران” کے ساتھ "کلیاتِ اشعارِ فارسیِ مولانا اقبال لاہوری” کا تازہ ایڈیشن سجا ہوا ہے۔ یہ معاملہ سمجھ میں نہیں آیا۔ کئی لوگوں سے اس سلسلے میں گفتگو ہوئی اور مختلف باتیں سننے میں آئیں۔ مثلاً یہ کہ حکومت کو ایران میں اقبال کا زیادہ چرچا پسند نہیں لیکن سیاسی مصالح کی بنا پر وہ کھل کر ان کے کلام کو ایران میں ممنوع قرار نہیں دے سکتی۔ یہ بھی سننے میں آیا کہ خود بعض ایرانیوں کو اقبال کے فارسی کلام کی بڑھتی ہوئی مقبولیت پسند نہیں اس لیے کہ اس وقت غیر ممالک میں مشرقیات پر جو کچھ لکھا جا رہا ہے اس میں اقبال کے حوالے بڑھتے جا رہے ہیں، ان کو مشرقی ذہن و روح کی علامت سمجھا جا رہا ہے اور اب اس موضوع پر رومی اور خیام وغیرہ کے حوالے سے اتنی گفتگو نہیں ہو رہی ہے جتنی پہلے ہوتی تھی۔ والله اعلم بالخیر والصواب۔ بہرحال "کلیات اقبال” مجھے دستیاب ہو گئی اور مولوی علی محمد نقوی نے مجھ کو اس دستیابی پر خوش دیکھ کر تین اور عمدہ کتابیں مرحمت فرما دیں: "احیایِ فکرِ دینی در اسلام” اقبال کے لکچروں کے مجموعے کا فارسی ترجمہ ہے ، مترجم احمد آرام، مقدمہ از حسین نصر۔ "سیرِ فلسفہ در ایران” ان کے پی ایچ ڈی کے مقالے کا ترجمہ، مترجم ۱ ح آریان پور۔ ان دونوں کتابوں میں فلسفے اور تصوف کی اصطلاحوں کے ترجموں کی بہت مفید اور طویل فہرستیں بھی ہیں۔ "سرودِ اقبال” قیمتی آرٹ پیپر پر اقبال کے منتخب کلام کا مجموعہ ہے جو ایران کے ماہر خطاط عباس علی حاج آقا محمد محمدی کی خطاطی کا دلکش مرقع بھی ہے۔ مرتب فخر الدین حجازی نے ۱۲۴ صفحوں کا مقدمہ لکھا ہے اور اس میں اقبال کی وہ وہ تعریفیں ہیں کہ باید و شاید۔ اسی مقدمے کے پردے میں ایرانی علما کے موجودہ احساسات بھی جھلک مار رہے ہیں۔ مثلاً اقبال وہ ستارہ تھا جو اس ہندوستان کی شب تاریک میں چمکا جس کو استعمار کے دیوِ سیاہ نے نگل رکھا تھا… وہ چاپلوس نہیں تھا کہ اپنے "گراں مایہ شعر” کو "پاے خوکاں” پر ڈال دیتا… اس نے اپنا دماغ صاحبانِ اقتدار کے ہاتھ نہیں بیچا… وغیرہ۔
"کلیاتِ اقبال” کے مرتب احمد سروش کا مقدمہ بھی بہت تفصیلی ہے جس میں زیادہ زور اقبال کی شاعری کے فکری اور سیاسی پس منظر اور اس کے مضمرات پر دیا گیا ہے۔ اقبال کی زبان کے سلسلے میں احمد سروش لکھتے ہیں کہ آٹھویں صدی ہجری کے بعد سے جزیرہ نمائے ہند کی فارسی اور ایران کی مروجہ فارسی میں فرق ہو گیا ہے اور بعض "شیوہ ہائے زبان” جو پہلے ایران میں مستعمل تھے اور بعد میں متروک ہو گئے ، ہندوستان اور افغانستان میں برقرار رکھے گئے۔ اسی طرح بعض الفاظ مثل "تہہ،” "تپ،” "بغاوت،” "وا،” جو موجودہ ادبی فارسی میں متروک الاستعمال اور غیر فصیح ہو گئے ہیں، ان کے نمونے ہندوستان کے اساتذۂ شعرِ فارسی کے یہاں بہ کثرت ملتے ہیں۔
٭٭

کتابوں کی ان دکانوں پر ایک سرسری نظر ڈالیے اور اندازہ کر لیجیے کہ دوسری زبانوں سے فارسی میں کیا کیا آ رہا ہے :
"روان شناسی و دین” (از یونگ)، "کارِ ہنر پیشہ روی خود” (از استانیسلاوسکی)، "ج۔۔۔ پاک سرشت” (از ژان پل سارتر)، "گتسبی بزرگ” (از اسکاتس فیتزجیرالد)، "نمونہ ہای از شعرِ معاصرِ یونان”، "زندگی وافکارِ برناردشا”، "زندگی واندیشہ ہای برتراند راسل”، معنیِ ہنر” (از ہربرت رید)، "از امپرسیونیسم تا ہنرِ آبسترہ”، "ہمنگوی وآثارِ او”، نقدِ حکمتِ عامیانہ” (از سیمون دوبوار)، "مرگ آرام” (از سیمون دوبوار)، "دوگانگی درآثارِ داستایوسکی” (از یرمیلوف)، "محاکمہ” (از فرانتس کافکا)، "مسخ” (ازفرانتس کافکا)، "دیوارِ چین” (ازفرانتس کافکا)، "بلندیہای توفان انگیز” (از امیلی برونتہ)، "تفکرات تنہائی” (از ژاں ژاک روسو)، "جہاں کہ من می شناسم” (از برتراند راسل)، "چرا مسیحی نیستم” (از برتراند راسل)، "در ستایشِ فراغت” (از برتراند راسل)، "تحلیلِ ذہن” (از برتراند راسل)، "مقالاتِ توماس مان،”، اگزیستانسیالیسم و اصالتِ بشر” (از ژاں پل سارتر)، "اگزیستانسیالیسم یا مکتبِ انسانیت” (از ژاں پل سارتر)، "کلیاتِ زیباشناسی” (از بندتو کروچہ)، "منطق سمبولیک ” (از سوزان لنگر)، "مرثیہ ہای شمال” (از آنا آخماتووا)، "سنگ آفتاب” (از آکتاویو پاز)، "زندگی و شعرِ لورکا”، "آواز خوانِ طاس” (از اوژن یونیسکو)، "گزرگاہہای سایہ دار” (از ایوان بونین)، "خشم و ہیاہو” (از ویلیام فالکنر)، "بیگانہ” (از آلبر کامو)، "سقوط”(از آلبر کامو)، "طاعون” (از آلبر کامو)، "اگوستوس” (از ہرمان ہسہ)، "سِدّہارتا” (از ہرمان ہسہ)، "دمیان” (از ہرمان ہسہ)، "چند نامہ بہ شاعری جوان” (از راینر ماریا ریلکہ)، "نامہ ہای وان گوگ،”، مائدہ ہای زمینی” (از آندرہ ژید)، "گفتگو باکافکا” (ازگوستاو یانوش)، "سوموئل بکت” (از ویلیام یورک تیندال)، "برتولت بریشت” (از رونالد گری)، "زندگیِ دستایوسکی”، "دواقلیم” (ازآندرہ موروا)، "صندلیہا” (از اوژن یونیسکو)، "ملالِ پاریس” (ازشارل بودلیئر)، "بررسیِ آثارِ فرانتس کافکا”، "سوی تفاہم” (از آلبر کامو)، "حقیقت وافسانہ” (از برتراپْد راسل)، "سرچشمہ زندگی” (از ایزک آسموف)، "اشعارِ منتخب از شاعرانِ رمانتیک فرانسہ”، "کار از کارگذشت” (از ژاں پل سارتر)، "دست ہای آلودہ” (از ژاں پل سارتر)… ہمنگوے ، بریخت، داستایوسکی وغیرہ کی بیش تر کتابیں، نطشے ، ڈارون، فروئڈ سے لے کر جیک لنڈن، پیٹر شینی، جیمز ہیڈلے چیز تک کے قلمی آثار، بچوں کے ادب میں گرم برادران، اینڈرسن سے لے کر اِینِڈ بلیٹن تک کی کتابوں کے مصوّر ترجمے اور Asterix کی Gauls سیریز کے فارسی ایڈیشن، غرض ایک سیلاب امڈتا چلا آرہا ہے۔ فوراً خیال آتا ہے کہ جن لوگوں نے اپنی زبان میں یہ ذخیرہ منتقل کر لیا ہے ان کا ذہنی افق کس قدر وسیع ہو گا۔ غیر زبانوں کے صرف تخلیقی اور تنقیدی ادب کے فارسی ترجموں کو نظر میں رکھتے ہوئے اردو کے سرمائے کا خیال کیجیے تو شدید احساس کمتری پیدا ہوتا ہے۔ لیکن یہ معما حل نہیں ہوتا کہ اس کے باوجود ایرانیوں کی تنقیدی بصیرت صفر کے آس پاس کیوں ہے۔
ایران کے مشہور اشاعتی ادارے "امیر کبیر” میں ایک صاحب کا فون آیا کہ ہمیں کچھ کتابیں مطلوب ہیں۔ اِدھر سے کہا گیا کہ کتابوں کے نام لکھوایئے۔ جواب آیا، "نام نہیں معلوم، بس کچھ خاص طرح کی کتابیں چاہیے ہیں۔” پوچھا گیا کہ آپ رُمان، شعر، فلسفہ وغیرہ میں سے کس موضوع کی کتابیں چاہتے ہیں۔ اُدھر سے کہا گیا کہ زحمت کر کے اپنے کسی آدمی کو بھیج دیجیے تاکہ اس کو ٹھیک سے سمجھا دیا جائے۔ ادارے کا آدمی ان صاحب کے مکان پر پہنچا تو وہ اس کو عمدہ فرنیچر سے آراستہ ایک کمرے میں لے گئے جس میں کتابوں کے لیے ایک خوب صورت شیلف بھی بنا ہوا تھا۔ انھوں نے کہا کہ اس شیلف کو ناپ لیجیے اور اسی ناپ اور شیلف کے رنگ کی مناسبت سے ایسی کتابیں فراہم کیجیے کہ شیلف بھر جائے اور کمرے کے فرنیچر سے ہم آہنگ ہو جائے۔ شاید اسی لیے ایران میں زیادہ تر کتابیں بڑے سائز پر خوب صورت جلدوں کے ساتھ شائع ہوتی ہیں، لیکن جلدسازی کے لحاظ سے دنیا کی کمزور ترین کتابیں ہوتی ہیں۔ چار چار سو صفحے کی کتابیں تک اکثر سلائی سے محروم ہوتی ہیں اور پیپر بیک کی طرح ان کے اوراق گوند سے چپکا دیے جاتے ہیں۔ دبیز دفتی اور بہترین آرٹ پیپر کی جلدیں بہت جلد کتاب کو عریاں چھوڑ کر الگ ہو جاتی ہیں اور اس سوئے ظن کو تقویت دیتی ہیں کہ ان میں سے اکثر کتابیں پڑھنے کے لیے نہیں بلکہ دیکھنے کے لیے ، بلکہ دکھانے کے لیے ، چھاپی جاتی ہیں۔
٭٭

"خیاباں پُر از درخت بود
آسمان صاف بود و آبی
درخت ہای تکیدہ سر ہای مشخّصِ خود را
توی آسمان فرو می بردند
ہمہ در آسمان بودند
آنہا را…”
نوجوان شاعرہ نے قدرے توقف کیا، معافی مانگی، آنسو پونچھے ، پھر آگے بڑھی:
"… آنہا را صدا زدم
درخت ہای خوب، درخت ہای سپیدِ بلند
درخت ہای مہربان، سرافراز و رہا در آسمان
آیا دست ہای مرا می گیرید؟”
نظم ختم ہوئی۔ شاعرہ ایک بار پھر معافی مانگ کر آنسو پونچھنے لگی۔ میں نے ظہیر کی طرف دیکھا۔
"جی ہاں، یہ نظم سناتے ہوئے بہت متاثر ہو جاتی ہیں۔”
"پروانہ، آپ کی یہ نظم مجھے بہت پسند آئی۔ کچھ اور سنائیے۔”
"نہیں، آپ ہنسیں گے۔ اچھا میں نظم لکھ کر دیے دیتی ہوں۔”
"آپ سنائیے ، میں لکھ رہا ہوں۔”
"آپ مجبور کر رہے ہیں تو…”

من روزی خواہم رفت و درمیانِ سبزہ ہا
و درخت ہا گم خواہد شد
من ہم ذرّہ ای از نسیمِ عطرآگیں
تقدیر دارِ طوفانِ عظیمِ جنگل خواہم شد
"فراموش خواہم گشت”

(ایک دن میں چلی جاؤں گی اور سبزے
اور درختوں میں گم ہو جاؤں گی
میں بھی (کہ) نسیمِ عطر آگیں کا ایک ذرّہ (ہوں)
جنگل کے طوفانِ عظیم کی ہم قسمت ہو جاؤں گی
اور بھُلا دی جاؤں گی۔)
اس کے بعد پروانہ کے ساتھی عامری (ع۔ م۔ حامد کرمل) نے اپنا کلام سنایا:
"… من تاریخ می بینم
کہ پوزخندِ جاہلانہ یِ خود را
بر پیشانیِ بی علامتِ من منتشر می سازد…”
(میں تاریخ کو دیکھتا ہوں
کہ اپنی جاہلانہ مسکراہٹ
میری بے علامت پیشانی پر بکھیر رہی ہے۔)

میں نے کوشش کی کہ ان نوجوانوں کی شاعری کے محرکات وغیرہ پر گفتگو کروں لیکن اس پر ان دونوں میں سے کوئی بھی آمادہ نظر نہیں آیا، لہذا یہ مختصر سی نشست جو علی ظہیر کے گھر پر ہوئی تھی، رسمی گفتگو کے ساتھ برخاست ہو گئی۔

"تقویمہایِ دولت بدچاپ می شود
تقویمہایِ دولت دروغ می گویند
مطبوعاتِ دولتی ہم…
درآنہا بجای "وفات”: "تولّد”
و بجای "عزا”: "جشن”
چاپ شدہ

باید اینہا ہمہ تصحیح شوند
با مدادِ گلی رنگ ہمرنگِ خون…”
("اگر… فردا…” از الف بارش)
( سرکاری تقویمیں خراب چھپتی ہیں
سرکاری تقویمیں جھوٹ بولتی ہیں
سرکاری مطبوعات بھی…
ان میں "وفات” کے بجائے "تولّد”
اور "عزا” کے بجائے "جشن”
چھپ گیا ہے
ّ …
ان سب کی تصحیح ہونا چاہیے
سرخ، خون کی ہمرنگ روشنائی سے۔

یہ نمونہ فارسی کی موجودہ باغیانہ شاعری کا ہے۔ دراصل فارسی ادب خصوصاً شاعری کے جدید رجحانات بغاوت ہی کے جذبات کا نتیجہ رہے ہیں۔ اس صدی کے اوائل میں جس فارسی شاعری کو فروغ ہوا وہ ایران نے قاجاری بادشاہوں کے استبداد کا رد عمل تھی۔ عارف قزوینی ، پورداؤد، دہخدا اور ان کے معاصروں نے اپنی قومی اور سیاسی نظموں سے پورے ایران کو قاجاری استحصال کے خلاف نبرد آزما کر دیا۔ چناں چہ پہلوی انقلاب آ گیا اور ایران پس ماندگی سے ترقی پذیری کے دور میں داخل ہوا۔ لیکن اسی کے ساتھ وہ شاعری جو اس انقلاب کے قوی ترین عوامل میں سے تھی بے کیف ہوتی گئی اور فارسی ادب پر جمود سا طاری ہو گیا۔ نیما یوشیج نے ایک ادبی باغی کی حیثیت سے نمودار ہو کر اس جمود کو توڑا۔ اس کی آزاد شعری ہیئتوں اور غیر مانوس خیالات میں ایسی قوت چھپی ہوئی تھی کہ اس کو نظرانداز کرنا ممکن نہ تھا۔ بہت جلد وہ فارسی ادب کی سب سے زیادہ متنازعہ فیہ شخصیت بن گیا۔ ایک مدت تک وہ ایران کا معتوب ترین اور محبوب ترین شاعر رہا۔ رفتہ رفتہ اس کے مقلّدوں کا حلقہ وسیع تر ہوتا گیا اور جدید فارسی کی یہ بغاوت بھی کلاسیکی فارسی کی طرح ایک روایت بن گئی۔ اب اس روایت کو بھی بغاوت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ یہ بغاوت "موجِ نو” تحریک کی صورت میں سامنے آئی ہے جس کا پیشوا احمد رضا احمدی ہے۔ اس تحریک کے ساتھ پھر ادبی معرکوں کا آغاز ہوا ہے جس کی تازہ ترین مثال رسالہ "سخن” کے صفحات پر ہونے والی وہ بحث ہے جو اسی رسالے میں شائع ہونے والی احمدی کی ایک نظم "وقت من است” کے سلسلے میں سعیدی سیرجانی نے چھیڑی ہے۔ یہ بحث خاصا طول کھینچ چکی ہے لیکن چوں کہ اس نوعیت کی بحثیں اردو شاعری کے سلسلے میں بھی بہت ہوتی رہی ہیں لہذا اس کی تفصیل غیر دلچسپ ہو گی۔ مجموعی حیثیت سے ایران کی ادبی صورتِ حال اطمینان بخش نہیں ہے۔ اس کا بنیادی سبب وہ سیاسی ماحول معلوم ہوتا ہے جس نے اس گرم جوش ملک کو سرد لہر میں جکڑ رکھا ہے۔
٭٭٭

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے