Khuli Kitaab Ky Safhay

کھلی کتاب کے صفحے اُلٹتے رہتے ہیں

ہوا چلے نہ چلے دن پلٹتے رہتے ہیں

بس ایک وحشتِ منزل ہے اور کچھ بھی نہیں

کہ چند سیڑھیاں چڑھتے اُترتے رہتے ہیں

مجھے تو روز کسوٹی پہ دَرد کستا ہے

کہ جاں سے جسم کے بخیے اُدھڑتے رہتے ہیں

کبھی رُکا نہیں کوئی مقام صحرا میں

کہ ٹیلے پاؤں تلے سے سرکتے رہتے ہیں

یہ روٹیاں ہیں، یہ سِکّے ہیں اور دائرے ہیں

یہ ایک دُوجے کو دن بھر پکڑتے رہتے ہیں

بھرے ہیں رات کے ریزے کچھ ایسے آنکھوں میں

اُجالا ہو تو ہم آنکھیں جھپکتے رہتے ہیں

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے