خودکُشی

خودکُشی
مدر’ز ڈے کے لئے ایک نظم
وہ اپنے بچوں کے زرد چہروں کو دیکھتی ھے
کبھی تو اُن کو وہ چُومتی ھے
کبھی وہ اُن کی اُداس آنکھوں میں،
گہرے فاقوں کو کھوجتی ھے
وہ سوچتی ھے
کوئی خوشی ان کو دے نہ پائی
وہ زندگی ان کو دے نہ پائی
ھے گھر میں آٹا نہ دال دلیہ
نہ گیس، بجلی کا بِل بھرا ھے
سکول سے نام، بچوں کا، کٹ چکا ھے
وہ خالی پٹری کو دیکھتی ھے
ٹرین آنے کا وقت شائد قریب ھے اب
وہ اپنے بچوں کو اپنے سینے میں،
گویا اُس پل اُتارتی ھے
اور آخری بار چُومتی ھے
وہ اُن کو ہولے سے کہہ رہی ھے
جہاں پہ جانا ھے آج ھم کو
وہاں پہ کھانے کو بھی ملے گا
ٹرین آ کر چلی گئی ھے……
جہاں تھے بچٌے،جہاں پہ ماں تھی
وہاں پہ کچھ بھی تو اب نہیں ھے
وہاں پہ بکھرے ھیں چند پُرزے،
وہ خالی بستہ،وہ ماں کی ممتا
مگر وہاں اور کچھ نہیں ھے
فاخرہ بتول

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے