خودی کا راز

خودی کا راز
میری ہر فکر میں طوفان کی طغیانی ہے
اور مرے شوق میں جذبوں کی فراوانی ہے
یوں جنوں بہتا ہے دریا کی روانی جیسے
اور مری سوچ میں پلتی ہے کہانی جیسے
میں نے تو ہمت مردان خدا سیکھی ہے
میں نے ٹوٹے ہوئے لہجوں کی دعا سیکھی ہے
میں نے ہر رنگ کی خوشبو کی ادا سیکھی ہے
میں نے ہر ظاہر و باطل کا اٹھایا پردہ
اور تسخیر زمانہ کی لگن دل میں لئے
اپنے ہاتھوں میں مشقت کے کڑے پہنے ہیں
میں نے ہر عقل و خرد فہم و فراست کا سہارا لے کر
یوں زمانے کو برتنے کے ہنر سیکھے ہیں
میں نے جانے ہیں سبھی راز نہاں اور جہاں
اور جانا ہے خودی ہے تو مکاں میرا ہے
آسماں میرا
زمیں میری
جہاں میرا ہے
نیل احمد

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے