Khuda

خدا
پورے کا پورا آکاش گھما کر بازی دیکھی میں نے

کالے گھر میں سورج رکھ کے

تم نے شاید سوچا تھا میرے سب مہرے پٹ جائیں گے

میں نے ایک چراغ جلا کر

اپنا رستہ کھول لیا

تم نے ایک سمندر ہاتھ میں لے کر مجھ پر ڈھیل دیا

میں نے نوح کی کشتی کے اوپر رکھ دی

کال چلا تم نے اور میری جانب دیکھا

میں نے کال کو توڑ کے لمحہ لمحہ جینا سیکھ لیا

میری خودی کو تم نے چند چمتکاروں سے مارنا چاہا

میرے اک پیادے نے تیرا چاند کا مہرہ مار لیا

موت کو شہ دے کر تم نے سمجھا تھا اب تو مات ہوئی

میں نے جسم کا خول اتار کے سونپ دیا ۔۔۔اور روح بچا لی

پورے کا پورا آکاش گھما کر اب تم دیکھو بازی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے