خدا پرستی کا نسخہ

خدا پرستی کا نسخہ
ڈاکٹروں نے ایجاد کیا۔ گرمی گرمی کو مارتی ہے۔ زہر زہر اتارتا ہے۔ سنا نہیں چیچک و طاعون کے ٹیکے انہی بیماریوں کے زہر سے بنائے جاتے ہیں۔ پھر یہ خدا پرست لوگ نیا علاج کیوں نہیں کرتے ۔ میں عیسائیوں، آریوں اور مسلمانوں کو اپنی ایجادِ جدید سے آگاہ کرنا چاہتا ہوں تاکہ وہ لوگوں کو خدا پرستی کی تندرستی اورروح کی درستی عطا کریں اور خدا کی بھول سے بندوں کو بچائیں۔ جوعافیت شکن مرض ہے۔

قرآن میں خدا نےفرمایا ہے،جب بندہ پرمصیبت آتی ہے یا وہ بیمارہوتا ہےتوخلوصِ قلب سےخدا کو یاد کرتا ہے اور جب تندرست ہوتا ہے تو ایسا بےخبر ہو جاتا ہے۔ گویا کبھی خدا سے کام ہی نہ پڑا تھا۔ انجیل وتورات میں بھی انسان کی اس فطری خصلت کا ذکر آیا ہے۔پس منطقیانہ نتیجہ یہ نکلا کہ آدمی کو بیمار ڈالنا اور مصیبت میں مبتلا کرنا چاہئے تاکہ وہ خدا پرستی کرے اور خدا سے غافل نہ ہو۔

اس حالت میں پادری صاحبان کو لازم ہے کہ شفا خانے بند کر دیں اور ایسی دوائیں تقسیم کریں جن سے انسان بیمار زیادہ ہوں۔ بیماریاں بڑھیں گی توخدا پرستی بھی ترقی کرے گی۔ ہندوں اورمسلمانوں کوبھی لازم ہےکہ وہ کونسلوں میں تجویز پیش کریں اورشہروں قصبوں سےسرکاری اسپتال اٹھوادیں۔ کیونکہ ان عام دواخانوں نےہم کوازحد تندرست کر دیا ہے اور اس تندرستی سے ہماری ایمان درستی میں فرق آرہا ہے۔ فطرت بدلتی رہتی ہے۔تو ہم کو بھی بدلتا رہنا چاہئے۔کیا ضرورت ہے کہ ہم وعظ کہہ کر اپنا دماغ خراب کریں اور کتابیں ہدایت و خدا پرستی کے لئے تصنیف کرکے اپنا روپیہ کھوئیں۔

بہت آسان علاج ہے ۔نہایت مزے دار نسخہ ہے ۔کھلی ہوئی بات ہے جس میں غور و خوض کی ضرورت ہی نہیں مگر میں کہ اس نسخہ کا موجد ہوں از راہ حفظ ماتقدم عرض کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ مجھ پر اس نسخہ کا تجربہ نہ کیا جائے ۔میں پریشانی و بیماری میں خدا کو اتنا یاد نہیں کرتا جتنا تندرستی میں جھک جھک کر اس کی عبادت بجا لاتا ہوں اور کہتا ہوں، اے مولیٰ اس بھول کے عالم گیر زمانہ میں میری یاد قبول کر، میں تجھ کو کیوں کر بھولوں کہ تیرے احسان اور تیری نعمتیں مجھ کو سر سے لے کر پاوں تک دبائے ڈالتی ہیں اور تو مجھ کو اس قدر یاد آتا ہےکہ زندگی کے مزے میں کرکراہٹ ہونے لگتی ہے ۔ ہر گھڑی خیال یہی کہتا ہے کہ زندگی کے تماشے ہیچ ہیں جو کچھ ہے زندہ خدا کی دید و شنید میں ہے۔

چونکہ میں اس کلّیہ سےمستثنیٰ ہوں۔ لہذا مجھ کو بیمار ڈالنے کی کوشش نہ کی جائے ۔ واجب جان کرعرض کیا۔

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے