خدا کلام بشر شش جہات مانتا ہوں

خدا کلام بشر شش جہات مانتا ہوں
تو کہہ رہا ہے تو چل تیری بات مانتا ہوں
یہ جانتا ہوں کہ ضد سے ہے زات_اصل عیاں
میں مانتا جو نہیں اس کی زات۔ مانتا ہوں
عجیب ڈھاک نما سایہ دار۔ عشق۔ ہے وہ
سو اس کے لمس کو بس تین پات مانتا ہوں
وفور_ شوق میں حیرت کی۔ مستجابی پر
جو بازوؤں میں مچلتی ہے رات مانتا۔ ہوں
ترے جمال۔ سے کتنے سخن کشید۔ کیے
گدائے لفظ ہوں تجھ۔ کو دوات مانتا ہوں
مجھے مشینی۔ تعلق سے توڑنے۔ والے
تو جوڑ لے گا مرے پرزہ جات۔ مانتا۔ ہوں
مچان سے نہ مجھے۔ دیکھ ایک مدت سے
ترا شکار ہوں اور تیری۔ گھات مانتا ہوں
اتارتا ہوں کہیں اور جا کے اپنی تھکن۔
تجھے میں جیت کے بھی اپنی مات مانتا ہوں
گزرتے وقت کے گھوڑے کی نعل بھی نہ بنے
بغیر عشق یہ دل ایسی دھات مانتا ہوں
خدا زمین محبت وجود میں اور۔ تم
اگر یہ ہم ہیں تو۔ کل کائنات مانتا۔ ہوں
ہوں پر یقین مرا ۔۔۔۔۔۔۔ راستہ نہ کاٹیں گے
اسی لیے تو ترے معجزات۔۔۔۔۔۔۔ مانتا۔ ہوں
ذوالقرنین حسنی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے