خود سے لڑنا تھا بہت بار خفا ہونا تھا

خود سے لڑنا تھا بہت بار خفا ہونا تھا
اپنی تقدیر سے خوش ہوں کہ نیا ہونا تھا

رب نے اچھا ہے تجھے پہلے دکھا دی دنیا
بعد میں جا کے زیادہ ہی گلہ ہونا تھا

اس کے ہونے سے ترا دھیان بھٹک جاتا ہے
وہ نہ ہوتا تو ترے ساتھ خدا ہونا تھا

اب کہ حیرانی نہیں ہوتی مجھے دنیا پر
چل کے دو چار قدم سب نے جدا ہونا تھا

جادوئی زخم تھا ایسے کہاں کھلنا تھا اسے
جل پری ہاتھ لگاتی تو ہرا ہونا تھا

سب کو ہو جانا تھا معلوم خوشی کا مطلب
اپنے ذندان سے جب ہم نے رہا ہونا تھا

تجدید قیصر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے