خود سے جب بے زاری ہو

خود سے جب بے زاری ہو
کس سے بات تمہاری ہو
چاہے مجھ سے دور رہو
میری ذمہ داری ہو
ایک سا موسم لگتا ہے
خوشی ہو یا بے زاری ہو
تم بھی بزم میں ہو موجود
راگ بھی پھر درباری ہو
دل کا حال چھپا لوں تو
اچھی دنیا داری ہو
کھل کے مجھ سے بات کرے
جس کو کچھ دشواری ہو
خوش مت ہو یہ ممکن ہے
اگلی تیری باری ہو
گلہ نہیں اس سے جس کو
ہنسنے کی بیماری ہو
جیوتی آزاد

ख़ुद से जब बे-ज़ारी हो

किस से बात तुम्हारी हो

चाहे मुझ से दूर रहो

मेरी ज़िम्मेदारी हो

एक सा मौसम लगता है

ख़ुशी हो या बे-ज़ारी हो

तुम भी बज़्म में हो मौजूद

राग भी फिर दरबारी हो

दिल का हाल छुपा लूँ तो

अच्छी दुनिया-दारी हो

खुल के मुझ से बात करे

जिस को कुछ दुश्वारी हो

ख़ुश मत हो ये मुमकिन है

अगली तेरी बारी हो

गिला नहीं उस से जिस को

हँसने की बीमारी हो

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے