کچھ پھول تو غلافِ ملامت میں لگ گئے

کچھ پھول تو غلافِ ملامت میں لگ گئے
اور کچھ ہماری قبر کی زینت میں لگ گئے

دو چار ہی ثواب کے حامل کیے تھے کام
اور وہ بھی ایک شخص کی غیبت میں لگ گئے

دو چار خواب تیری سفارش نگل گئی
دو چار زخم تیری حراست میں لگ گئے

تنہائی میں ہوا کا تصرف عذاب تھا
تنگ آ کے اک دیے کی حفاظت میں لگ گئے

کتنی تسلیوں کو فنا لے کے اُڑ گئی
کتنے نفیس بوسے عیادت میں لگ گئے

علی زیرک

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے