کچھ محبت کچھ گلہ آثار بارش ہورہی ہے

کچھ محبت کچھ گلہ آثار بارش ہورہی ہے
دو بزرگوں میں دم – گفتار بارش ہورہی ہے
دوست پہلی نظم میں بھی صاف پانی بہہ رہا تھا
اس غزل میں اور تازہ کار بارش ہورہی ہے
پہلے تو سب اہل – خانہ گھر میں بیٹھے رو رہے تھے
آج لگتا ہے پس – دیوار بارش ہورہی ہے
شہر کی اونچی عمارت میں بھی گریہ چل رہا ہے
آسماں سے غیر جانب دار بارش ہورہی ہے
نیکریں پہنے ہوئے بچوں کی حالت دیدنی ہے
جیسے اس گاوں میں پہلی بار بارش ہورہی ہے
پڑتے جاتے ہیں کئی سوراخ کالی چھتریوں میں
تیر گرتے ہیں کہ خنجر وار بارش ہورہی ہے
ابر – نم دیدہ نے چھت پر اک سماں باندھا ہوا ہے
شام ہی سے ایک موسیقار بارش ہورہی ہے
عاطف کمال رانا

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے