کچھ کو صبح روشنی کچھ کو خدا دے گا چراغ

کچھ کو صبح روشنی کچھ کو خدا دے گا چراغ
ایک بُجھ جاۓ گا تو مجھ کو نیا دے گا چراغ
اس نے تو یہ کہہ کے بخشا تھا دعا دے گا چراغ
دیکھئے ہم کو جلائے یا جِلا دے گا چراغ
ایک دن درویش کر لے گا مسخر روشنی
ایک دن مستی میں سورج کو دِکھا دے گا چراغ
گرد چہرے پر رہے گی آنکھ کے پیالوں میں اشک
خاک اور پانی ملا کر پھر بنا دے گا چراغ
ہم نے کی ہے کاشت اس نگری میں اجلی روشنی
اس نے چاہا تھا ان آنکھوں کے بُجھا دے گا چراغ
پہلے دے گا اِذن مجھ کو آندھیوں میں کُوچ کا
اور اس کے بعد ہاتھوں میں تھما دے گا چراغ
کب تلک دہلیز پر امید جلتی چھوڑ دوں
چھوڑ دوں تو ایک دن گھر ہی جلا دے گا چراغ
دے رہا تھا کون مادر زاد بستی میں صدا
یوں ہی اک دن روشنی اپنی لُٹا دے گا چراغ
روشنی سے نین چُندھیانے لگیں گے جب عروج
وہ اندھیروں میں رہے گا اور دبا دے گا چراغ
صباحت عروج

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے